امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی ٹول یا فیس عائد نہیں کی جائے گی، تاہم انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی چارج عائد ہوا تو وہ صرف امریکا کی جانب سے ہوگا –
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی 60 روزہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی فیس نہیں لی جائے گی، اور اس کے بعد بھی کوئی ٹول نافذ نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ یہ امریکا کے مفاد میں ہو،اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار نہ کر سکا تو امریکا اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اس را ستے پر چارجز عائد کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل بھی عندیہ دیا تھا کہ امریکا اس اسٹریٹجک راستے پر سیکیورٹی فیس یا ٹول سسٹم متعارف کرا سکتا ہے، جس کے بدلے واشنگٹن خطے میں سلامتی کی خدمات فراہم کرے گا ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور خطے میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے، جبکہ امریکا کے سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحری آمدورفت بدستور جاری ہے۔
آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا اہم مرکز رہی ہے عالمی توانائی کا ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے اس علاقے کی صورتحال عالمی منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے مفاہمتی یادداشت کے مطابق 60 روزہ عبوری دور میں اس راستے کو کھلا رکھنے اور کسی بھی فریق کو ٹول عائد کرنے سے روکا گیا ہے۔
