بھارت میں ہندوتوا نظریہ پہ کاربند انتہاپسندوں نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی
بھارت میں ہندوتوا بالادستی کیلئے سفاک مودی سرکار کی سرپرستی میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی زندگی مشکل بنادی گئی،مسلمان و مسیحی عبادت گاہوں پر حملے، ہندوتوا کے بڑھتے اثرات کے باعث اقلیتیں انتہا پسندوں کے تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں، بھارتی جریدہ دی وائر نے بھی انتہا پسندوں کی نئی اشتعال انگیزی کو بے نقاب کرکے مودی سرکار کو آئینہ دکھادیا، دی وائر کے مطابق؛اوڑیسہ میں انتہا پسند ہندو چرچ میں جا گھسے، مسیحی شہریوں کو ہراساں اور عبادت کرنے سے روک دیا گیا،بھارتی انتہاپسندوں کی جانب سے چرچ میں عبادت کی صورت میں تمام مسیحی گھرانوں کو گاؤں سے بیدخل کرنے کی دھمکی دی،واقعہ کے اگلے ہی روزہندوانتہا پسند گروپ نے حملہ کرکے مسیحی برادری کے 2 نوجوانوں کو بے دردی سےزخمی کردیا، چند ہفتے قبل بھی انتہا پسند ہندووں نے پادری پر تشدد کرکے انہیں جوتوں کا ہار پہنایا اور گوبرکھلایا تھا، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے قوانین کیخلاف احتجاج کو دی وائر نےنام نہاد ہندو مظلومیت کی سیاست قرار دیدیا
ہندوستان ٹائمز کے مطابق ؛متعصب وزیراعلیٰ آسام نے بھی نفرت آمیز بیان میں مسلمانوں کو اپنا ووٹ بنگلہ دیش میں ڈالنے کا کہا ہے
ماہرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں اور کمزور طبقات پر تشدد سماجی ہم آہنگی تباہ کر کے سنگین داخلی انتشار کاباعث بن رہا ہے،آر ایس ایس قانون، انصاف اورمساوات کی بالادستی کے بجائے انتہا پسند ہندو ریاست کا قیام چاہتی ہے،بھارت میں انسانی حقوق کی پامالی داخلی انتشار کو جنم دےکر علیحدگی پسند تحریکوں کو تقویت دے رہی ہے
