بھارتی شہر سکندر آباد کے علاقے بولارم میں مدراس رجمنٹ کے فوجی اسلحہ خانے سے 12 جدید ہتھیار اور بھاری مقدار میں گولہ بارود چوری ہونے کے بعد 4 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں فوج کا شہری عملہ بھی شامل ہے۔ چوری ہونے والے ہتھیاروں میں 5 رائفلیں شامل ہیں، جن میں اے کے-203 اور انساس رائفلیں بھی شامل ہیں، جبکہ 7 پستول، 21 میگزین اور گولیاں بھی غائب ہیں۔رپورٹس کے مطابق فوجی حکام کی شکایت پر ہتھیاروں اور گولہ بارود کا آخری مرتبہ 30 اگست کو باقاعدہ حساب کیا گیا تھا۔ چوری کا انکشاف 31 اگست 2026 کو صبح 8 بجے اس وقت ہوا جب معمول کے مطابق اسلحہ خانہ کھولا گیا تو گولہ بارود رکھنے والے کمرے کے تالے ٹوٹے ہوئے پائے گئے۔واقعے کی سنگینی کے پیش نظر فوجی انٹیلی جنس، مرکزی تحقیقاتی اداروں، تلنگانہ پولیس اور تلنگانہ کاؤنٹر انٹیلی جنس پر مشتمل کثیر ادارہ جاتی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چوری کیے گئے ہتھیار اور گولہ بارود غیر مجاز افراد کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اور انہیں غلط استعمال یا کسی دوسرے مقام پر منتقل کیے جانے کا بھی امکان ہے۔پولیس سے چوری، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر متعلقہ جرائم کے تحت مقدمہ درج کرکے فوری کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔ واقعے کے بعد فوجی یونٹ نے تمام ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ گنتی، ریکارڈ اور رجسٹر کی جانچ جبکہ اسلحہ خانے اور قریبی علاقوں میں تلاشی کا عمل شروع کردیا۔اسلحہ خانے تک رسائی رکھنے والے اہلکاروں کی فہرست تیار کرکے ان سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے، جبکہ تحقیقات کے دوران ضروری مقامات کو سیل کردیا گیا ہے۔
