ایرانی بحریہ کا جنگی جہاز IRIS Dena بھارت میں منعقدہ فلیٹ ریویو میں شرکت کے بعد جب بھارتی سمندری حدود میں سفر کر رہا تھا تو اسے ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد اہلکار لاپتہ ہو گئے۔
ایرانی بحری جہاز IRIS Dena نے حالیہ دنوں میں بھارتی ساحل پر منعقدہ بین الاقوامی فلیٹ ریویو میں شرکت کی تھی، جس کی میزبانی بھارتی بحریہ نے کی۔ اس تقریب میں مختلف ممالک کے جنگی جہازوں نے حصہ لیا تھا اور اسے خطے میں بحری تعاون کی علامت قرار دیا گیا تھا۔ جہاز کو بھارتی پانیوں میں ایک امریکی آبدوز نے نشانہ بنایا۔ بھارتی بحریہ نے تلاش و بچاؤ (Search & Rescue) آپریشن نہیں کیا بلکہ سری لنکن نے 78 ایرانی ملاحوں کو بچایا۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مرمت و دیکھ بھال معاہدہ موجود ہے جس کے تحت امریکی بحری جہاز بھارتی شپ یارڈز میں لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی امریکی جہاز نے بھارتی بندرگاہ یا پانیوں کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا؟امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی تعاون گزشتہ چند برسوں میں مضبوط ہوا ہے، تاہم کسی بھی ملک کے خلاف براہ راست عسکری کارروائی کے لیے دوسرے ملک کی سرزمین یا پانیوں کے استعمال کا معاملہ انتہائی حساس اور بین الاقوامی قوانین کے تابع ہوتا ہے۔
سری لنکا کی سمندری حدود کے قریب امریکی حملے سے ایرانی جہاز ڈوبنے سے متعلق سری لنکن بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سمندر سے متعدد افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں،ترجمان سری لنکا بحریہ کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے ملنے والی لاشیں جہاز کے عملے کی ہیں، تصدیق کا عمل جاری ہے، واقعہ سری لنکا کی سمندری حدود سے باہر پیش آیا، سری لنکا مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، متاثرہ جہاز ایرانی بحریہ کا ہے،سری لنکن بحریہ کا کہنا ہے کہ دیگر تفصیلات اور وجوہات سے متعلق تحقیقات بعد میں جاری کی جائیں گی، اس مرحلے پر ہلاک افراد کی درست تعداد نہیں بتائی جا سکتی، جہاز ڈوبنے کی وجوہات سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہیں، امدادی کارروائی کے دوران متاثرہ علاقے میں کسی اور جہاز کی موجودگی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا،خبر ایجنسی نے بتایا کہ سری لنکن وزارت دفاع اور بحریہ کے ذرائع کے مطابق ایرانی جہاز آئرس ڈینا آبدوز کے حملے کا نشانہ بنا۔
رپورٹ کے مطابق ایک سری لنکن اپوزیشن رہنما نے سوال پوچھا کہ آیا جہاز کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کے حصے کے طور پر نشانہ بنایا گیا تھا؟ تاہم حکومت نے اس سلسلے میں اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔
