بھارت کے شہر گریٹر نوئیڈا میں چلتی بس میں 16 سالہ لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے الزام میں بس ڈرائیور اور کنڈکٹر کو گرفتار کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ 4 اگست کو پیش آیا، جب مین پوری، اترپردیش سے تعلق رکھنے والی لڑکی نوئیڈا سیکٹر 63 جانے کے لیے سفر کر رہی تھی۔ بارش اور اندھیرے کے باعث وہ غلطی سے نوئیڈا کے پری چوک پر اتر گئی، جہاں اسے معلوم ہوا کہ وہ اپنی منزل سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ہے۔پولیس کے مطابق رات تقریباً 9 بجے لڑکی بارش میں اکیلی کھڑی تھی کہ ایک خالی سلیپر بس وہاں رکی۔ بس کے کنڈکٹر نے مبینہ طور پر اسے بتایا کہ وہ بھی نوئیڈا سیکٹر 63 جا رہے ہیں، جس پر لڑکی بس میں سوار ہوگئی۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ بس دراصل گریٹر نوئیڈا کے سورج پور میں ورکشاپ سے واپس آ رہی تھی۔متاثرہ لڑکی نے پولیس کو دی گئی شکایت میں الزام عائد کیا کہ بس چلنے کے کچھ ہی دیر بعد کنڈکٹر نے اس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس دوران مزاحمت کرنے پر اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
پولیس کے مطابق واردات کے بعد ملزمان نے لڑکی کو دہلی کے کشمیری گیٹ کے قریب رنگ روڈ پر چھوڑ دیا، جس کے بعد اس نے پولیس سے رابطہ کیا اور واقعے کی شکایت درج کرائی۔پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بس ڈرائیور 39 سالہ کلدیپ اور 26 سالہ کنڈکٹر سندیپ کو شمالی دہلی کے تیمارپور کے ایک پارکنگ ایریا سے گرفتار کرلیا۔ ایک کمپنی ملازم کے مطابق دونوں ملزمان گزشتہ دو برس سے زائد عرصے سے نجی ٹریول کمپنی ’’وشواناتھ ٹریولز‘‘ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔تفتیش کے دوران پولیس نے بس قبضے میں لے لی جبکہ فرانزک ٹیم نے بس کے اندر سے لڑکی کے بالوں کے نمونے بھی برآمد کیے ہیں۔ پولیس نے بس کے راستے میں نصب مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی ہے تاکہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جاسکیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ سلیپر بس میں برتھوں کے درمیان پردے لگے ہوئے تھے، جن کا ملزمان نے مبینہ طور پر فائدہ اٹھایا۔
واقعے نے بھارت میں دسمبر 2012 کے مشہور ’’نربھیا کیس‘‘ کی یاد تازہ کردی ہے، جس میں چلتی بس میں ایک نوجوان خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
