افغان طالبان رجیم کے ایک اہم انٹیلیجنس عہدیدار تاج میر جواد کو قندھار میں مبینہ طور پر ہدف بنا کر ہلاک کر دیا گیا ہے
رپورٹس کے مطابق تاج میر جواد افغان طالبان ریجیم کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس (GDI) کے نائب سربراہ تھے، کمانڈر نوید احمدزئی کی نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے اس ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں افغان طالبان رجیم کا ایک سینئر انٹیلیجنس عہدیدار قرار دیا ہے-
افغانستان کے صوبہ قندھار میں نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے طالبان انٹیلی جنس کے فرسٹ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ملا تاجمیر جواد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تنظیم کے مطابق 30 اگست کو قندھار کے عینو مینا اسکوائر کے قریب ایک منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کی گئی، جس میں طالبان انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کے مطابق ملا تاجمیر جواد کی ہلاکت طالبان کے اہم سیاسی و سکیورٹی مرکز قندھار میں سکیورٹی ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکا ہے تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی کا مقصد طالبان حکام اور کمانڈروں کو پیغام دینا ہے کہ اعلیٰ سکیورٹی عہدے مزاحمتی کارروائیوں سے تحفظ کی ضمانت نہیں، تنظیم نے طالبان کی حکمرانی کے خاتمے اور افغانستان میں ایک جامع، نمائندہ اور جوابدہ سیاسی نظام کے قیام کے اپنے مؤقف کو بھی دہرایا ہے۔
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے کہا ہے کہ یہ پیشرفت افغانستان بھر میں طالبان حکومت کے خلاف جاری مزاحمتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جہاں مزاحمتی گروہوں کی جانب سے طالبان کے سیکیورٹی ڈھانچے سے وابستہ شخصیات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں،مزاحمت کا دائرہ اب دور دراز علاقوں سے نکل کر طالبان کے اہم مراکز اور اعلیٰ عہدیداروں تک پہنچ رہا ہے-
فرنٹ نے طالبان حکومت کی جانب سے اقتدار پر اجارہ داری ختم کرکے ایک جامع، نمائندہ اور جواب دہ سیاسی نظام کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ تاہم ملا تاج میر جواد کی ہلاکت سے متعلق نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کا یہ دعویٰ آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق طلب ہے۔
