چینی صدر نے ملک کی توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نئے توانائی نظام کی منصوبہ بندی اور تعمیر کو تیز کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے پن بجلی کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ، اور جوہری توانائی کے محفوظ و منظم پھیلاؤ پر بھی زور دیا انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے عالمی توانائی کے رجحانات کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے نئی توانائی سلامتی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے اہم فیصلے کیے ہیں-
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ہوا اور شمسی توانائی میں ابتدائی سرمایہ کاری ہماری دور اندیشی کا ثبوت ہے، تاہم کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو توانائی نظام کی بنیاد کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنا ہوگا چین اس وقت دنیا میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے سب سے بڑا کاربن اخراج کرنے والا ملک بھی سمجھا جاتا ہے –
صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کو کم کاربن اور صاف توانائی کے اہداف پر قائم رہنا ہوگا ان کے مطابق ‘ایک سبز، متنوع اور مضبوط توانائی نظام نہ صرف توانائی سلامتی بلکہ معاشی ترقی کی بھی ضمانت ہوگا-
واضح رہے کہ گزشتہ برس چین نے تبت کے سطح مرتفع کے مشرقی کنارے پر دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی ڈیم کی تعمیر شروع کی تھی، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق 4,550 میٹر کی بلندی پر شمسی حرارتی بجلی گھر کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
