Baaghi TV

قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث مکمل کرلی گئی، اسپیکر ایاز صادق

parlimrnterian

قومی اسمبلی اجلاس،بجٹ پر بحث مکمل کر لی گئی

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بتایا کہ اپوزیشن کو طے شدہ وقت سے آٹھ گھنٹے سے زائد وقت دیاگیا۔سینیٹ کی سفارشات پر بحث جاری ہے، سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بجٹ پر سات دن بحث ہوئی 232 اراکین نے حصہ لیا، حکومت کے 151 اور اپوزیشن کے 81 اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔مجموعی طور پر اراکین نے 53 گھنٹے 31 منٹ بجٹ پر بحث کی، جبکہ الاٹ کردہ وقت چالیس گھنٹے تھا،حکومتی اراکین نے 34 گھنٹے 33 منٹ، اپوزیشن نے 18 گھنٹٹ 58 منٹ بحث میں حصہ لیا،ن لیگ کے 77، پیپلز پارٹی کے 49، ایم کیو ایم کے 20 ارکان نے بجٹ بحث میں حصہ لیا،تحریک انصاف کے 67، سنی اتحاد کونسل کا ایک، جے یو آئی کے دس اراکین نے بحث میں حصہ لیا،اپوزیشن سائیڈ کو طے شدہ وقت سے 8 گھنٹے 18 منٹ زائد وقت دیا گیا۔

قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس 2026-27 کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سینیٹ کی جانب سے بجٹ سے متعلق موصول ہونے والی سفارشات پر بحث کے لیے اراکینِ قومی اسمبلی کے نام فراہم کیے جائیں۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد عامر ڈوگر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے 67 اراکین بجٹ پر عمومی بحث میں حصہ لے چکے ہیں اور انہیں مختص کیے گئے 9 گھنٹوں کے مقابلے میں 5 گھنٹے 41 منٹ اضافی وقت بھی دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تین روز کے دوران آپ کے اراکین سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے انہیں بجٹ کی عمومی بحث میں شرکت کے لیے بلایا جاتا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی خواجہ شیراز نے کہا کہ پاکستان کی 25 فیصد جی ڈی پی زراعت سے منسلک ہے، مگر حکومتی پالیسیوں نے اس شعبے کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن ادارہ ختم کرکے اتھارٹی بنائی گئی، جس کا مقصد اصلاحات تھا، لیکن اس کے بجائے زیادہ تنخواہوں پر تقرریاں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کپاس کی پیداوار مسلسل کم ہو رہی ہے، پاکستان کبھی ایک کروڑ 60 لاکھ بیلز کپاس پیدا کرتا تھا، جو اب تقریباً 50 لاکھ بیلز تک محدود ہو گئی ہے، جبکہ بھارت سالانہ 4 کروڑ بیلز کپاس پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر سرپلس ہونے کے باوجود چینی درآمد کی گئی، آئی ایم ایف نے بھی حکومتی پالیسیوں پر اعتراضات اٹھائے، لیکن حکومت ہر معاملے کا الزام آئی ایم ایف پر ڈال دیتی ہے۔ خواجہ شیراز نے مزید کہا کہ چاول کی کاشت بھی منفی گروتھ کا شکار ہے، کسانوں کو ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے، گندم کے کاشتکاروں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور حکومت گندم سرکاری گوداموں کے بجائے نجی کمپنیوں کو دے رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں پولیس گردی اور سی سی ڈی کا راج قائم ہے، گرفتار افراد کے اہل خانہ سے پیسے مانگے جاتے ہیں اور نہ دینے پر سنگین دھمکیاں دی جاتی ہیں، جس کے باعث صوبے میں انتہائی تشویشناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اسامہ میلہ نے کہا کہ زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر موجودہ حالات میں کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں پنجاب میں مکئی، آلو اور گندم کے کاشتکاروں کو روتے دیکھا، گندم کے کاشتکاروں کے ساتھ بدمعاشی ہوئی جبکہ کپاس، مکئی سمیت کئی فصلوں کی پیداوار میں منفی گروتھ رہی۔ ان کے بقول حکومت نے اعدادوشمار میں زراعت کی مثبت گروتھ ظاہر کی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق آلو کی کاشت میں 11 فیصد گروتھ ہوئی، جبکہ حقیقت میں آلو کے کاشتکاروں نے کھڑی فصلوں پر ہل چلانے پر مجبور ہونا پڑا اور کپاس کی کاشت میں بھی نمایاں کمی آئی۔ اسامہ میلہ نے کہا کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی، زراعت زوال کا شکار ہوئی، سال بھر کے لیے زراعت کی 6 فیصد گروتھ کا ہدف رکھا گیا تھا، لیکن صرف 0.6 فیصد گروتھ حاصل ہو سکی۔

More posts