پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا یہ بھاری اضافہ ملکی معیشت اور عام آدمی کی زندگی پر گہرے منفی اثرات مرتب کرے گا۔ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 13 روپے 18 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے 80 پیسے کا یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوام پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ، آن لائن بائیک سروسز اور نجی گاڑیوں کے اخراجات فوری طور پر بڑھ جائیں گے، جس کا سب سے زیادہ نقصان روزانہ سفر کرنے والے ملازم پیشہ افراد اور طالب علموں کو اٹھانا پڑے گا۔
معاشی نقطۂ نظر سے، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ پیٹرول کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ پاکستان کا پورا مال برداری (Logistic) کا نظام ڈیزل پر چلتا ہے۔ جب بھی ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرکوں اور کنٹینرز کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر مارکیٹ میں موجود ہر چھوٹی بڑی چیز، بالخصوص کھانے پینے کی اشیاء، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمارا زرعی شعبہ بھی شدید متاثر ہوگا کیونکہ فصلوں کی کٹائی کے لیے استعمال ہونے والی مشینری اور ٹیوب ویل بھی ڈیزل سے چلتے ہیں، جس سے کسانوں کے لیے پیداواری لاگت مزید بڑھ جائے گی۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
