Baaghi TV

افغان اور ہندوستانی ایک ہی ڈی این اے” رکھتے ہیں۔طالبان

بھارت اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی روابط نے خطے میں نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارت اگرچہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتا ہے، تاہم دوسری جانب وہ افغانستان کی ایسی عبوری حکومت کے ساتھ رابطے بڑھا رہا ہے جسے تاحال بین الاقوامی سطح پر باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
‏افغان وزیرِ مولوی عطا اللہ عمری نے کہا کہ بھارت اور افغانستان ایک قوم ہیں اور ان دونوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے افغانستان کا باپ بھارت اور دادا اسرائیل ہے اب یہ دشمن بیانیہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے جو پاکستان کے موقف کی جیت ہے کہ پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں میں بھارت ، افغانستان اور اسرائیل ملوث ہیں۔
بھارت کے حالیہ دورے کے دوران طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر زراعت مولوی عطاء اللہ عمری کے بیان نے بھی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانوں اور بھارتیوں کا "ڈی این اے ایک ہے” اور بھارت میں انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے ہی لوگوں اور اپنے ہی ملک میں موجود ہوں۔
یہ بیان طالبان کی سیاسی غلامی اور معاشی انحصار کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں طالبان افغان ورثہ اور اسلامی اقدار کا دعویٰ کرتے ہیں، وہیں ڈالروں اور سفارتی تسلیم کے لیے وہ نئی دہلی کے سامنے گھٹنے ٹیکتے نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ہے اور مشکل وقت میں افغان عوام کا ساتھ دیا ہے۔ افغانستان نے ایسے بیان دے کر احسان فراموشی کی سب حدیں پار کر دی ہیں ۔
دوسری جانب بھارت ایک طرف عالمی فورمز پر دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اپناتا ہے، جبکہ دوسری جانب طالبان حکام کے ساتھ بڑھتے ہوئے رابطے بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ صورتحال بھارت کی علاقائی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت اور طالبان میں "ایک ہی ڈی این اے” کی ہم آہنگی علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ پاکستان اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ افغانستان کی خوشحالی پاکستان کے مفاد میں ہے، لیکن پاکستان کی سلامتی کی قیمت پر نہیں

More posts