Baaghi TV

ایران میں دھماکے، امریکا کا پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر ایک بار پھر حملہ

ایران کے قشم جزیرے کے ماسان گاؤں کے قریب 5 سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق قشم جزیرے سے آبنائے ہرمز کی سمت مزید 4 دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ دھماکوں کی آوازیں جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس کے مشرقی علاقوں میں بھی سنی گئیں۔

دوسری جانب امریکی فوج نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے مختلف ٹھکانوں اور آبنائے ہرمز کے گرد موجود اہداف کے خلاف تازہ فضائی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں اور خطے میں موجود امریکی اہلکاروں کے خلاف پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حملوں کی کوششوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

امریکی سینٹکام کے مطابق تازہ کارروائی منگل کو دوپہر 12 بجے شروع ہوئی۔ امریکی میڈیا ادارے ایکزیوس نے بھی رپورٹ کیا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے اطراف متعدد اہداف کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے بندر عباس، قشم جزیرے اور سیرک میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات دی ہیں۔ قشم جزیرہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے اور اس علاقے میں ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی کی صورتحال خطے کی اہم بحری گزرگاہ پر براہ راست اثر انداز ہوسکتی ہے۔

یہ تازہ امریکی کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ اور شدید کشیدگی برقرار ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی آمدورفت محدود کر رکھی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف جوابی ناکہ بندی جاری ہے۔

اس سے قبل امریکا نے اتوار کو بھی کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد ایران کے خلاف پہلی معلوم فوجی کارروائی کی تھی، جس میں آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے لارک کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

واشنگٹن کے مطابق لارک جزیرے پر موجود راکٹ لانچرز کو نشانہ بنانے کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنا تھا۔

تازہ حملوں اور قشم، بندر عباس اور سیرک میں دھماکوں کی اطلاعات کے بعد آبنائے ہرمز کے گرد جاری کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

More posts