امریکا کی ریاست کینٹکی میں دو کسان خواتین نے اپنی خاندانی زرعی زمین پر مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کے خلاف غیر معمولی مزاحمت کرتے ہوئے مجموعی طور پر 2 کروڑ 64 لاکھ ڈالر سے زائد کی پیشکش ٹھکرا دی۔
امریکی میڈیا کے مطابق میس ویل میں رہنے والی ڈیلسیا بیئر اور ان کی والدہ ایڈا ہڈلسٹن کو ایک نامعلوم ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے ان کی زمین خریدنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر دونوں خواتین نے زمین فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی، تاہم بعد میں جب انہیں معلوم ہوا کہ خریدار کا مقصد اس زرعی زمین پر اے آئی ڈیٹا سینٹر قائم کرنا ہے تو انہوں نے معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ڈیلسیا بیئر اور ان کی والدہ نے خود کو دیہی علاقے کی سادہ مزاج خواتین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ زمین محض جائیداد نہیں بلکہ خاندان کی کئی نسلوں سے جڑی ہوئی میراث ہے۔بیئر کے مطابق جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کی زمین پر مصنوعی ذہانت کو طاقت فراہم کرنے والا ایک بڑا ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے گا تو انہوں نے کمپنی کے نمائندوں کو واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ زمین فروخت نہیں کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نمائندوں سے کہا، "یہاں سے چلے جائیں اور دوبارہ واپس نہ آئیں۔”
رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین کے خاندان کے پاس یہ زمین تقریباً 200 سال سے موجود ہے۔ زمین کی فروخت کے بدلے انہیں مارکیٹ ویلیو سے کہیں زیادہ رقم ملنے والی تھی، تاہم مالی فائدے کے باوجود انہوں نے خاندانی زمین برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔ڈیلسیا بیئر کے پاس تقریباً 463 ایکڑ زمین تھی جس کے لیے انہیں فی ایکڑ 48 ہزار ڈالر کی پیشکش کی گئی۔ دوسری جانب ایڈا ہڈلسٹن کی تقریباً 71 ایکڑ زمین کے لیے فی ایکڑ 60 ہزار ڈالر کی پیشکش کی گئی۔ دونوں زمینوں کی مجموعی قیمت تقریباً 2 کروڑ 64 لاکھ 80 ہزار ڈالر بنتی ہے۔بیئر نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ اگر وہ خاندانی زمین کسی اے آئی مرکز کے لیے فروخت کر دیتی ہیں تو وہ اپنے فیصلے پر خود کو جواب دہ سمجھیں گی۔ ان کے بقول، اگر وہ اس زمین سے چلی گئیں اور یہاں اے آئی ہب قائم ہوگیا تو انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ انہوں نے اپنے خاندان کی زمین کے مقصد اور ورثے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
میس ویل میں مجوزہ ڈیٹا سینٹر منصوبے نے مقامی آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ کچھ مقامی افراد اور زمین مالکان کا خیال ہے کہ بڑے ٹیکنالوجی منصوبے علاقے میں روزگار، سرمایہ کاری، ٹیکس آمدن اور معاشی سرگرمی لا سکتے ہیں، جبکہ بعض شہری زرعی زمین کے صنعتی استعمال میں تبدیل ہونے اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کے مقامی اثرات پر تحفظات رکھتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق علاقے کے بعض مالکان پہلے ہی اپنی زمین لاکھوں ڈالر کے عوض فروخت کرنے پر رضامند ہوچکے ہیں، جبکہ بیئر سمیت کچھ افراد منصوبے کی تعمیر کے خلاف قانونی کارروائی بھی کر رہے ہیں۔مقامی اقتصادی ترقی کے ایک عہدیدار ٹائلر میک ہیو کے مطابق اس تنازع نے ایسے لوگوں کو بھی ایک دوسرے کے خلاف قانونی محاذ پر لا کھڑا کیا ہے جو شاید اپنی پوری زندگی میں کبھی عدالت کا سامنا نہ کرتے۔
اس منصوبے سے منسلک کمپنی کا نام باضابطہ طور پر سامنے نہیں آیا۔ تاہم امریکی میڈیا میں اسے میٹا (Meta) سے ممکنہ طور پر منسلک قرار دیا گیا ہے۔ میٹا نے واضح کیا ہے کہ علاقے میں کام کرنے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔اس صورتحال نے مقامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکا کے دیہی علاقوں میں کتنی زرعی زمین صنعتی اور ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر میں تبدیل کی جائے گی۔
ڈیلسیا بیئر، جو تقریباً نابینا ہیں، اور ان کی والدہ ایڈا ہڈلسٹن، جو چلنے کے لیے چھڑی استعمال کرتی ہیں، خود کو اس تنازع میں ایک غیر متوقع کردار میں دیکھ رہی ہیں۔بیئر نے کہا کہ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ انہیں کسی ڈیٹا سینٹر کے خلاف مزاحمت کرنا پڑے گی۔ ان کے مطابق وہ سمجھتی تھیں کہ وہ امریکا کے انتہائی دور افتادہ دیہی علاقے میں زندگی گزار رہی ہیں، لیکن اب وہ مصنوعی ذہانت کی عالمی صنعت سے جڑے ایک بڑے منصوبے کے خلاف کھڑی ہیں۔
