کابل: افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے اور امریکی افواج کے انخلا کو پانچ سال مکمل ہوگئے، تاہم اس عرصے میں ملک شدید انسانی، معاشی اور انسانی حقوق کے بحرانوں سے دوچار رہا۔ عالمی امداد میں نمایاں کمی، خواتین اور بچیوں پر پابندیوں، بڑھتی غربت اور غذائی قلت نے افغان عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان دنیا کے سنگین ترین انسانی حقوق اور انسانی بحرانوں میں شامل ہوگیا ہے۔ تقریباً 45 فیصد افغان آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، تاہم 2022 کے بعد افغانستان کے لیے مجموعی انسانی امداد میں تقریباً 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔امریکا، جو طویل عرصے تک افغانستان کو سب سے زیادہ امداد فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا، اب امدادی عطیات دینے والے پانچ بڑے ممالک میں بھی شامل نہیں۔ 2025 کے آغاز میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً تمام یو ایس ایڈ انسانی اور ترقیاتی معاہدے ختم کیے جانے سے افغانستان کے لیے ایک ارب 70 کروڑ ڈالر سے زائد کی منصوبہ بند امداد متاثر ہوئی۔طالبان حکومت کے تحت خواتین اور بچیوں کے حقوق سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ افغانستان اس وقت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بچیوں کو چھٹی جماعت کے بعد تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔ یونیسکو کے مطابق تقریباً 24 لاکھ افغان بچیاں اسکول کی تعلیم سے محروم ہیں۔
خواتین پر زیادہ تر ملازمتوں میں پابندی، عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے کی ہدایت اور طویل فاصلے کے سفر کے لیے مرد سرپرست کی شرط سمیت مختلف پابندیاں عائد ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن کے مطابق تقریباً نصف افغان خواتین اب مہینے میں صرف ایک یا دو مرتبہ گھر سے باہر نکلتی ہیں، جبکہ 70 فیصد خواتین اپنی ذہنی صحت کو خراب یا انتہائی خراب قرار دیتی ہیں۔افغان خاتون کارکن محبوبہ سراج نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے تمام بنیادی حقوق ان سے چھین لیے گئے ہیں اور ان کے لیے آواز اٹھانا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں خواتین کے خلاف تشدد اور شادی سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مارچ میں طالبان کی جانب سے جاری ایک فرمان کے تحت شوہروں کو ایسی صورت میں بیویوں کو مارنے کی اجازت دی گئی جس میں ہڈیاں نہ ٹوٹیں یا مستقل نمایاں زخم نہ آئیں۔ایک اور فرمان کے ذریعے خواتین کے لیے شادی ختم کرنا مشکل بنائے جانے اور شادی کی کم از کم قانونی عمر ختم کیے جانے پر انسانی حقوق کے ماہرین نے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے حقوق اطفال کے ماہرین کے مطابق اس اقدام سے کم عمری کی شادی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
افغانستان میں جاری بحران کا سب سے بڑا اثر بچوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ سیو دی چلڈرن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر تقریباً ہر 10 میں سے ایک افغان بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔یونیسیف کے مطابق رواں سال ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد افغان بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت پڑنے کا امکان ہے، جبکہ امداد میں کمی کے باعث تقریباً 600 صحت مراکز بند ہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد افغان خواتین اور بچیاں انسانی امداد پر انحصار کرتی ہیں۔ خواتین کی زیر قیادت کام کرنے والی متعدد تنظیموں نے بھی مالی وسائل میں کمی کے باعث اپنی سرگرمیاں معطل یا مکمل طور پر بند ہونے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
طالبان حکومت کی پالیسیوں میں ایک نمایاں تبدیلی منشیات کے خلاف کارروائی ہے۔ 2022 میں پوست کی کاشت پر پابندی کے بعد افغانستان میں افیون کی پیداوار تقریباً 95 فیصد کم ہوگئی، جسے اقوام متحدہ کے ماہرین نے غیر قانونی منشیات کی پیداوار میں جدید تاریخ کی بڑی ترین کمیوں میں شمار کیا ہے۔تاہم پوست کی کاشت پر پابندی نے دیہی علاقوں میں ان خاندانوں کی آمدنی بھی ختم کردی جو اس فصل پر انحصار کرتے تھے۔ متبادل روزگار کے محدود مواقع کے باعث اقوام متحدہ نے مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار اور اسمگلنگ میں اضافے کے نئے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
2021 سے قبل افغانستان کے سرکاری اخراجات کا تقریباً تین چوتھائی حصہ غیر ملکی امداد سے پورا ہوتا تھا، لیکن طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ مالی معاونت بڑی حد تک ختم ہوگئی۔ طالبان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کے باعث امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے افغان مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی منجمد ہیں۔ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی افغانستان مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوسکا۔ داعش خراسان اور القاعدہ جیسے گروہوں کی سرگرمیاں اب بھی ایک چیلنج ہیں۔پانچ سال بعد افغانستان میں بھوک، قابلِ علاج بیماریوں، غربت اور خواتین کے خلاف سخت پابندیاں لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے امداد میں کمی نے انسانی بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔
