لاہور: ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا ایک اور بڑا کیس سامنے آ گیا، جہاں جعلی دعویداروں کو لاکھوں روپے کی پنشن جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) لاہور نے مبینہ طور پر 26 لاکھ روپے مالیت کی جعلی پنشن کلیمز کے معاملے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ جعلی مستحقین کے نام پر پنشن کی ادائیگیاں کی گئیں، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔
مقدمے میں ای او بی آئی لاہور کے اسسٹنٹ ڈائریکر آفتاب نسیم، نائب قاصد عمر اسلم، نائب قاصد عثمان علی، ان کی والدہ، بہنوں اور دیگر خواتین کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان پر جعلی دعویداروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر پنشن حاصل کرنے اور سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کرنے کے الزامات ہیں۔ ادارے نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مزید شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
حکام کے مطابق اگر تحقیقات میں مزید افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ای او بی آئی میں کروڑوں روپے کی پنشن فراڈ، ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا
