روم: اٹلی کے مشہور سیاحتی علاقے جھیل کومو ( کے قریب واقع دلکش ماہی گیر گاؤں وارینا نے بے ہنگم سیاحت پر قابو پانے اور مقامی ثقافت کے تحفظ کے لیے سیاحوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اب شہر کی گلیوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر صرف بیکنی یا سوئمنگ لباس پہن کر یا بغیر شرٹ گھومنے والے افراد کو 50 سے 200 یورو (تقریباً 57 سے 228 امریکی ڈالر) تک جرمانہ کیا جائے گا۔
یہ نیا ضابطہ 27 جون 2026 سے نافذ العمل ہے اور اسے وارینا کی بلدیہ نے شہری نظم و ضبط کے قوانین میں ترمیم کے تحت متعارف کرایا ہے۔بلدیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق پورے وارینا شہر میں بغیر شرٹ یا صرف سوئمنگ لباس پہن کر گھومنا ممنوع ہوگا۔ البتہ ساحل، جیٹی، کشتیوں کے گھاٹ اور مخصوص بیچ ایریاز میں یہ لباس پہننے کی اجازت برقرار رہے گی۔یعنی اگر کوئی سیاح ساحل سے نکل کر اسی لباس میں بازار، کیفے، ریستوران، چرچ یا تاریخی مقامات پر جائے گا تو اسے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وارینا کی آبادی صرف 650 افراد پر مشتمل ہے، مگر یہ جھیل کومو سے صرف 35 منٹ کی فیری کے فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔مسلسل بڑھتے ہوئے سیاحتی دباؤ نے مقامی رہائشیوں کی روزمرہ زندگی متاثر کرنا شروع کر دی تھی، جس کے بعد بلدیہ نے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا۔
وارینا کے میئر ماؤرو مانزونی نے کہا کہ "ہم اپنے خوبصورت گاؤں میں دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں سیاحوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن بڑے پیمانے پر سیاحت کی خاطر مقامی لوگوں کے معیارِ زندگی کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔”ان کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد سیاحت کو روکنا نہیں بلکہ اسے مہذب، منظم اور مقامی ماحول سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
وارینا کے دکانداروں اور رہائشیوں نے اس اقدام کو سراہا ہے۔ایک مقامی دکاندار نے اطالوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "ساحل پر لوگ جو چاہیں پہنیں، لیکن جب وہ دکانوں، ریستورانوں، چرچ یا شہر کے چوک میں آئیں تو انہیں مناسب لباس پہننا چاہیے۔”ان کے مطابق مقامی ثقافت، مذہبی مقامات اور شہری ماحول کے احترام کا بھی تقاضا ہے۔
بلدیہ نے صرف لباس ہی نہیں بلکہ بڑے سیاحتی گروپوں پر بھی نئی شرائط عائد کی ہیں۔ایک ٹور گروپ میں زیادہ سے زیادہ 25 افراد شامل ہو سکیں گے۔ٹور گائیڈز کے لیے لاؤڈ اسپیکر، میگا فون یا آواز بڑھانے والے آلات استعمال کرنا ممنوع ہوگا۔خلاف ورزی پر 105 سے 490 امریکی ڈالر کے مساوی جرمانہ اور بعض صورتوں میں کئی ماہ تک پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔مزید برآں، سیاحتی گروپوں کو مخصوص تاریخی گلیوں، چوراہوں، پلوں اور عوامی راستوں پر رکنے یا بھیڑ جمع کرنے سے بھی منع کر دیا گیا ہے تاکہ پیدل چلنے والوں کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وارینا اٹلی کا واحد شہر نہیں جس نے ایسے اقدامات کیے ہیں۔سورینٹو (Sorrento) میں بھی عوامی مقامات پر بغیر شرٹ یا صرف سوئمنگ لباس پہننے والوں کے لیے 500 یورو تک جرمانہ مقرر ہے۔اطالوی شہر پورٹوفینو (Portofino) بھی سیاحوں کے ہجوم کو محدود کرنے کے لیے مختلف پابندیاں نافذ کر چکا ہے۔سورینٹو کے میئر ماسیمو کوپولا کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات پر نامناسب لباس شہر کی شبیہ متاثر کرتا ہے اور مقامی آبادی میں بے چینی پیدا کرتا ہے، جس سے سیاحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
صرف اٹلی ہی نہیں بلکہ اسپین کے کئی سیاحتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کے قوانین نافذ ہیں۔بارسلونا میں ساحل کے علاوہ شہر کے اندر بیکنی یا سوئمنگ لباس پہن کر گھومنے پر تقریباً 312 امریکی ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔مایورکا (Mallorca) میں بھی بیکنی صرف ساحل اور سوئمنگ پول تک محدود ہے، جبکہ خلاف ورزی پر 630 امریکی ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
سیاحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کے مشہور سیاحتی مقامات میں آنے والے برسوں کے دوران اوور ٹورزم ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ لاکھوں سیاح مقامی انفراسٹرکچر، ٹریفک، صفائی، رہائش اور روزمرہ زندگی پر دباؤ ڈالتے ہیں، جس کے باعث متعدد شہر ایسے قوانین متعارف کرا رہے ہیں جو ایک طرف سیاحت کو برقرار رکھیں اور دوسری طرف مقامی آبادی کے حقوق اور ثقافتی اقدار کا تحفظ بھی یقینی بنائیں۔
