امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی اور دفاعی تیاریوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے، طبی عملہ اور اسلحہ منتقل کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے مکمل تیاری یقینی بنائی جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے امریکی اسپیشل فورسز اور جدید لڑاکا طیاروں کو بھی خطے میں تعینات کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں موجود امریکی بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف اپنے عسکری آپشنز کو مزید فعال بنانے پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں کے دوبارہ آغاز کے بعد امریکی فوج نے پہلی مرتبہ ایران کے خلاف کارروائی میں بی ون بمبار طیارے کا استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس بمبار طیارے نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا۔
بی ون بمبار امریکی فضائیہ کے جدید ترین اسٹریٹجک طیاروں میں شمار ہوتا ہے، جو 24 بم، ہر ایک تقریباً 2000 پاؤنڈ وزنی، یا درجنوں میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ کم بلندی پر انتہائی تیز رفتاری سے پرواز کرنے اور مختلف نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے ان رپورٹس پر باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں بڑھانے پر غور میں، امریکی میڈیا کا دعویٰ
