Baaghi TV

رفاقت اور ملال ،تحریر: عَائِشَہ گُل

"تمہیں یاد ہے نا نوری”
20 سال بعد آج وہ لان میں بیٹھی تھی۔ سامنے نوری تھی۔ نوری انگلینڈ سے پاکستان آئی تھی، یہ سنتے ہی زری نے سارے کام چھوڑے اور دوڑی دوڑی اس سے ملنے آئی تھی۔دونوں باغیچے میں بیٹھ گئیں۔ ہاتھ میں گرم گرم چائے تھی اور باتیں کالج کے زمانے کی۔ کالج کی وہ پرانی کلاس، وہ ٹیچر کی ڈانٹ، وہ لنچ ایک دوسرے سے چھپ کر کھانا… سب کچھ پلک جھپکتے سامنے آ گیا۔”میں کیسے بھول سکتی ہوں”
"کون سا زمانہ؟” نوری نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔زری نے ہاتھ آگے بڑھایا اور نوری کا ہاتھ تھام لیا۔ "وہی زمانہ… جس میں ہمیں بہت ملال ہے۔ تم ہمیشہ کہتی تھیں کہ زندگی بدل جاتی ہے، لوگ بدل جاتے ہیں۔ لیکن میں سوچتی تھی نہ زندگی بدلتی ہے نہ لوگ۔”
وہ رک گئی۔ آنکھیں نم ہو گئیں۔ "لیکن حالات بدل جاتے ہیں ذری۔ اور مجھے اس بات کا ملال ہمیشہ رہے گا کہ اگر تم اس دن میرا ساتھ دیتیں، تو شاید آج ہماری زندگی اس مقام پر نہ ہوتی۔ جہاں رفاقت تو ہے… لیکن ملال بھی ساتھ ہے۔
کالج کا آخری دن آج بھی دل پر نقش ہے۔ دھوپ تیز تھی۔ گیٹ کے پاس وہی پرانا برگد کا درخت اور اس کے نیچے عمار کھڑا تھا۔ وہ اکثر نوری کو کالج کے گیٹ تک چھوڑنے آتا تھا۔اس دن بھی وہ دونوں کالج سے ساتھ نکلیں۔ عبایا اور نقاب میں تھیں، اس لیے چہرے نظر نہیں آ رہے تھے۔ عمار نے دور سے آواز دی: "نوری!”
نوری ایک لمحے کو ٹھٹھکی، گھبرا گئی اور خاموشی سے کالج کے اندر واپس مڑ گئی۔ زری وہیں کھڑی رہ گئی۔عمار قریب آیا اور اسی کو نوری سمجھ کر بولا: "آج بہت دیر کر دی تم نے۔” زری نے گھبرا کر بس سر ہلا دیا۔ نقاب کی وجہ سے وہ کچھ بول بھی نہیں سکی۔ اس ایک لمحے کی خاموشی نے سب کچھ بدل دیا۔
اس دن کے بعد نوری نے کبھی پوچھا نہیں "کیا ہوا تھا؟” زری نے کبھی بتایا نہیں "میں تم نہیں تھی۔” اور یوں 20 سال کی رفاقت… ایک غلط فہمی کی نظر ہو گئی۔میں اس دن کے بعد بہت روئی نوری۔ میں سوچتی تھی تم مجھ سے ناراض ہو۔ پر واپس آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
شام ڈھل گئی۔ چائے ختم ہو گئی۔ دونوں اٹھیں۔ گلے ملیں۔ اس بار گلے میں شکوہ نہیں تھا۔آج دونوں اپنی زندگی میں بہت خوش ہیں۔نوری کا شوہر انگلینڈ میں اس کا بہت خیال رکھتا ہے۔ زری کا شوہر بھی اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ دونوں کے گھر بچوں کی ہنسی سے گونجتے ہیں۔
وہ دونوں اس سوچ کے ساتھ ٹھنڈی ہوا پر سکون سانس لینے لگیں۔ کہ آخر ایک دن ماضی کا ملال ختم ہو جائے گا
اور ہمیشہ کے لیے صرف رفاقت باقی رہ جائے گی۔
وہ دونوں پھر سے اپنی باتوں میں مگن ہو گئیں۔
فرق صرف اتنا تھا کہ اب فاصلہ مٹ چکا تھا۔

رفاقت باقی رہی۔اور ملال… آہستہ آہستہ اپنی جگہ چھوڑتا گیا۔

More posts