کسی ریاست کے انصاف کا اصل امتحان اس کے طاقتور شہریوں کے ساتھ نہیں، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کے پاس اختیار، وسائل اور اپنی آواز بلند کرنے کے مواقع کم ہوتے ہیں۔ جیل میں بند شخص، خواہ وہ مسلمان ہو، مسیحی، ہندو، سکھ یا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہو، سب سے پہلے ریاست کا شہری ہے۔ اسی لیے پنجاب اسمبلی کی جانب سے اقلیتی قیدیوں کو اپنے مذاہب کی تعلیم حاصل کرنے، امتحانات دینے اور کامیابی کی صورت میں قانون کے مطابق سزا میں رعایت دینے کی قرارداد ایک معمول کی پارلیمانی کارروائی نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ انصاف کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔
یکم ستمبر 2026ء کو پنجاب اسمبلی نے حکومتی رکن راحیلہ خادم کی پیش کردہ قرارداد منظور کی۔ اس میں مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی قیدیوں کے لیے ان کے اپنے مذہبی نصاب، اساتذہ اور امتحانات کی سہولت فراہم کرنے اور مذہبی تعلیم مکمل کرنے پر قانون کے مطابق سزا میں رعایت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد کے مطابق 2020ء سے 2025ء کے دوران 2,558 مسلمان قیدی دینی تعلیم حاصل کرکے اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جبکہ پنجاب کی جیلوں میں تقریباً 1,624 اقلیتی قیدی موجود ہیں۔ لیکن اس خبر کی اصل اہمیت صرف یہ نہیں کہ اب اقلیتی قیدیوں کو سزا میں کمی مل سکے گی۔ اصل مسئلہ برابری، مذہبی آزادی، اصلاحِ نفس اور ریاستی ذمہ داری کا ہے۔
پاکستان پریزن رولز 1978ء کے رول 215 کے تحت تعلیم کی بنیاد پر قیدیوں کو سزا میں رعایت دینے کا نظام پہلے سے موجود ہے۔ قرآن پڑھنے، سمجھنے اور حفظ کرنے جیسے مذہبی کورسز کے ذریعے مسلمان قیدی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ تاہم یہ کہنا بھی مکمل طور پر درست نہیں کہ قانون ابتدا ہی سے صرف مسلمانوں کے لیے تھا۔ اصل مسئلہ اس کے عملی نفاذ میں موجود عدم مساوات کا تھا۔
2022ء میں مسیحی شہری کاشف مسیح نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے یہ معاملہ اٹھایا کہ اگر مسلمان قیدیوں کو اپنے مذہبی علم کی بنیاد پر سزا میں رعایت مل سکتی ہے تو غیر مسلم قیدیوں کو بھی اپنی مذہبی کتابوں کی تعلیم حاصل کرنے پر مساوی سہولت کیوں حاصل نہیں۔ عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کیا۔
اس کے بعد ایک اہم قانونی پیش رفت ہوئی۔ 20 جنوری 2023ء کو پنجاب حکومت نے نوٹیفکیشن نمبر SO(MP) 11-5/2019(P-IV) کے ذریعے رول 215 میں نئی شقیں شامل کی گئیں۔ جن کے ذریعے اقلیتی قیدیوں کے لیے بھی مقررہ مذہبی کورس مکمل کرنے پر سزا میں رعایت کی قانونی گنجائش پیدا کی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کے ریسرچ سینٹر کے قانونی بلیٹن میں اس ترمیم کا باقاعدہ حوالہ موجود ہے۔ مگر قانون میں حق لکھ دینا اور کسی قیدی کو حقیقتاً وہ حق فراہم کر دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR) اور انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ اقلیتی قیدیوں کے لیے اصل رکاوٹ منظور شدہ مذہبی نصاب، اساتذہ اور امتحانی نظام کی عدم دستیابی تھی۔ یوں ایک قانونی حق عملی سہولت میں تبدیل نہ ہوسکا۔ NCHR نے بھی اس معاملے کو اٹھایا اور پنجاب حکومت کے ساتھ اس کے حل کے لیے کام کیا۔
اس ناکامی کا سب سے مضبوط ثبوت اعدادوشمار ہیں۔ Center for Social Justice کے مطابق 2022ء سے 2024ء کے دوران پنجاب میں 1,653 مسلمان قیدیوں نے مذہبی تعلیم کی بنیاد پر سزا میں رعایت حاصل کی، جبکہ اسی عرصے میں ایک بھی اقلیتی قیدی اس نوعیت کی رعایت حاصل نہیں کرسکا۔ یہ عدد محض ایک شماریاتی حقیقت نہیں، پورے نظام کے سامنے ایک آئینہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مسلمان قیدی کو یہ سہولت نہیں ملنی چاہیے۔ بالکل ملنی چاہیے۔ قرآن کی تعلیم، حفظ اور دینی مطالعہ ایک قیدی کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر ریاست مذہبی تعلیم کو اصلاح اور کردار سازی کا ذریعہ تسلیم کرتی ہے تو یہی اصول غیر مسلم شہریوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ مسیحی قیدی کو بائبل، ہندو قیدی کو گیتا یا دیگر مذہبی تعلیم، اور سکھ قیدی کو گرنتھ صاحب کی تعلیم حاصل کرنے کا وہی موقع ملنا چاہیے جو ایک مسلمان قیدی کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے حاصل ہے۔ یہی دراصل آئینی مساوات کا تقاضا ہے۔
پاکستان کا آئین مذہبی آزادی اور قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 20 شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ و تعلیم کے حقوق دیتا ہے، آرٹیکل 25 قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 36 ریاست کو اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔ چنانچہ جیل کے اندر بھی ریاست اس اصول سے الگ نہیں ہوسکتی۔
مذہبی تعلیم کو صرف سزا میں کمی کے زاویے سے دیکھنا بھی ناانصافی ہوگی۔ جیل کا مقصد محض انسان کو معاشرے سے کاٹ دینا نہیں بلکہ جہاں ممکن ہو اسے اصلاح کے بعد معاشرے میں واپس لانا بھی ہے۔ ایک قیدی جب اپنی مذہبی تعلیم کے ذریعے اخلاق، برداشت، معافی، ذمہ داری اور انسانی احترام جیسے تصورات سے دوبارہ جڑتا ہے تو اس کا فائدہ صرف اسے نہیں بلکہ اس کے خاندان اور پورے معاشرے کو ہوسکتا ہے۔
اسی لیے اقلیتی قیدیوں کو مذہبی تعلیم کا موقع دینا کسی پر احسان نہیں۔ یہ ایک اصلاحی حق ہے۔
اس معاملے کو یہاں تک پہنچانے میں اقلیتی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کا کردار بھی اہم ہے۔ کاشف مسیح کی عدالتی درخواست سے لے کر NCHR اور Center for Social Justice کی مسلسل وکالت تک یہ مسئلہ کئی برس سے متعلقہ اداروں کے سامنے موجود رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ اقلیتی حقوق صرف سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ عدالت، پارلیمان، انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی کی مسلسل جدوجہد سے محفوظ ہوتے ہیں۔
اب اصل امتحان حکومت کا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد خود قانون نہیں بنتی۔ اگر پہلے سے موجود قانونی ترمیم کے باوجود عملی نظام فعال نہیں ہوسکا تو اب حکومت کو مذہبی نصاب، مستند اساتذہ، امتحانی طریقۂ کار، سرٹیفکیٹ اور سزا میں رعایت کے شفاف نظام کو یقینی بنانا ہوگا۔ ہر جیل میں اہل اقلیتی قیدیوں کو اس سہولت کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے اور یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ کسی قیدی کو اپنے مذہب کی بنیاد پر اس حق سے محروم نہ ہونا پڑے۔
اس پورے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے صرف قواعد میں ترمیم یا اسمبلی کی قرارداد کافی نہیں؛ اس کے لیے جیلوں میں اقلیتی قیدیوں کو ان کے مذہب کے مطابق تعلیم دینے والے باقاعدہ اور مستند اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ عملی انتظام بھی ضروری ہے۔ اب تک دستیاب معلومات میں یہ واضح تعداد سامنے نہیں آتی کہ پنجاب کی جیلوں میں اقلیتی قیدیوں کی مذہبی تعلیم کے لیے کتنے اقلیتی مذہبی رہنماؤں یا اساتذہ کو باقاعدہ ملازمت دی گئی، اور نہ ہی ایسا کوئی جامع ریکارڈ سامنے آیا ہے کہ کتنے گرجا گھروں، ہندو مندروں، گردواروں یا دیگر مذہبی اداروں کے ساتھ حکومت نے مستقل بنیادوں پر معاہدے یا باضابطہ انتظامات کیے ہیں۔ یہی خلا اب پُر کرنا ہوگا، کیونکہ اگر بائبل، گیتا یا گرنتھ صاحب کی تعلیم کے لیے استاد، نصاب اور امتحانی نظام ہی دستیاب نہ ہو تو قانون میں تسلیم کیا گیا حق ایک بار پھر کاغذ تک محدود رہ جائے گا؛ اس لیے حکومت کو اقلیتی مذہبی قیادت اور ان کے اداروں کو باقاعدہ شراکت دار بنا کر ایسا شفاف نظام تشکیل دینا چاہیے جس میں تعلیم بھی ہو، امتحان بھی ہو اور اس کے نتیجے میں سزا میں رعایت کا حق بھی عملی طور پر مل سکے۔
اقلیتی برادریوں کو بھی اس قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے خاموش نہیں ہوجانا چاہیے۔ انہیں حکومت سے عمل درآمد کا ٹائم فریم، نصاب، امتحانی نظام اور فائدہ اٹھانے والے قیدیوں کا شفاف ریکارڈ طلب کرنا چاہیے۔ مذہبی رہنماؤں کو اپنے اپنے مذاہب کے مستند تعلیمی ماہرین کے ذریعے ایسے نصاب کی تیاری میں تعاون کرنا چاہیے جو مذہبی اعتبار سے معتبر اور اصلاحی مقصد کے مطابق ہو۔اور سب سے بڑھ کر، اس معاملے کو مسلمان بمقابلہ اقلیت کی بحث نہیں بننا چاہیے۔ یہ بحث دراصل مساوات بمقابلہ امتیاز کی ہے۔اگر ایک مسلمان قیدی قرآن پڑھ کر، سمجھ کر یا حفظ کرکے اپنی اصلاح کا راستہ اختیار کرسکتا ہے تو ایک مسیحی، ہندو یا سکھ قیدی کو بھی اپنے مذہب کی تعلیم کے ذریعے یہی موقع ملنا چاہیے۔ سزا کا معیار جرم ہونا چاہیے، مذہب نہیں؛ اور اصلاح کا دروازہ ہر اس شخص کے لیے کھلا ہونا چاہیے جو اسے عبور کرنا چاہتا ہے۔
پنجاب اسمبلی کی قرارداد کی اصل کامیابی اس دن ہوگی جب یہ کاغذ سے نکل کر جیل کی کسی کوٹھڑی تک پہنچے گی، جہاں ایک اقلیتی قیدی اپنے ہاتھ میں اپنی مقدس کتاب لیے یہ محسوس کرے گا کہ ریاست نے اس کا مذہب نہیں دیکھا، اس کا انسان ہونا دیکھا ہے۔کیونکہ انصاف کی سب سے خوبصورت شکل یہی ہے کہ جیل کی بلند دیواروں کے اندر بھی پاکستان برابر رہے۔
