لاہور: محکمہ اوقاف پنجاب میں حضرت داتا گنج بخشؒ کے عرس اور عید میلاد النبیؐ کے فنڈز میں سنگین مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن ثابت ہونے پر سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے تین سابق افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کے احکامات جاری کر دیے۔
محکمانہ فیصلے کے مطابق سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر حافظ جاوید شوکت کو مالی بدعنوانی، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور اوپن چیکس کے ذریعے من پسند سپلائرز کو ادائیگیاں کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان سے 64 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری بھی کی جائے گی۔اسی طرح سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو پانچ سال کے لیے نچلے عہدے پر تنزلی کی سزا دیتے ہوئے 28 لاکھ روپے کی ریکوری کا حکم دیا گیا، جبکہ سابق منیجر داتا دربار طاہر مقصود کو تین سال کے لیے تنزلی اور 18 لاکھ روپے سے زائد کی ریکوری کا سامنا ہوگا۔
محکمانہ انکوائری میں انکشاف ہوا کہ عرس انتظامات کے دوران مروجہ مانیٹرنگ سسٹم کو نظر انداز کیا گیا، وینڈر سبسٹی ٹیوشن کی گئی اور من پسند سپلائرز کو نوازا گیا۔ ان الزامات کے ثابت ہونے پر معاملہ مزید قانونی کارروائی کے لیے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) کو ریفرنس بھیجنے کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے۔دوسری جانب سابق خطیب داتا دربار مفتی رمضان سیالوی کے خلاف 26 لاکھ روپے فنڈز کی مبینہ وصولی کے معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ سابق سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف اور سابق ڈی جی مذہبی امور کے کردار کے تعین کے لیے بھی الگ تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق محکمہ اوقاف کو بدعنوان اور نااہل عناصر سے پاک کیا جا رہا ہے، اور میرٹ، شفافیت اور محکمانہ مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مالی بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
