بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع ترن تارن میں گھریلو تنازع ایک افسوسناک سانحے میں تبدیل ہوگیا، جہاں اپنی ناراض اہلیہ کو واپس گھر لے جانے کے لیے سسرال آنے والے ایک شخص کو مبینہ طور پر اس کے برادر نسبتی نے آگ لگا دی۔ واقعے میں متاثرہ شخص کو بچانے کی کوشش کرنے والی ایک خاتون بھی جھلس کر جان کی بازی ہار گئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت لووپریت سنگھ اور گرجیت کور کے نام سے ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق لووپریت سنگھ 13 جون کو اپنی اہلیہ سندیپ کور کو منانے اور واپس گھر لے جانے کی غرض سے اپنے سسرال پہنچا تھا، جہاں وہ کچھ عرصے سے گھریلو اختلافات کے باعث اپنے والدین کے گھر مقیم تھی۔
رپورٹس کے مطابق ملاقات کے دوران کسی بات پر تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے بعد الزام ہے کہ سندیپ کور کے بھائی سجن سنگھ نے لووپریت سنگھ پر آتش گیر مادہ چھڑک کر اسے آگ لگا دی۔
واقعے کے دوران سجن سنگھ کی بھابھی گرجیت کور متاثرہ شخص کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں، تاہم وہ بھی شعلوں کی لپیٹ میں آ گئیں اور شدید جھلس گئیں۔ دونوں زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
رپورٹس کے مطابق ملزم سجن سنگھ بھی اس واقعے میں جھلس گیا، جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے سجن سنگھ کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گھریلو تنازعات اگر بروقت حل نہ کیے جائیں تو وہ سنگین اور جان لیوا صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
ناراض بیوی کو منانے آئے شوہر کو آگ لگا دی گئی
