بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی میٹرو میں ایک خاتون کی مبینہ طور پر تصاویر لینے کے الزام پر مسافروں نے سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنا دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ گزشتہ رات میٹرو کے ایک کوچ میں پیش آیا، جہاں ایک خاتون نے الزام عائد کیا کہ سی آئی ایس ایف اہلکار نے اس کی تصاویر بنائی ہیں۔ خاتون نے اہلکار سے اس بارے میں سوال کیا، تاہم اہلکار نے تصاویر بنانے سے انکار کردیا۔ذرائع کے مطابق بعد ازاں بعض مسافروں نے اہلکار کے موبائل فون کی گیلری میں خاتون کی مبینہ تصاویر دیکھ لیں، جس کے بعد دیگر مسافر بھی احتجاج میں شامل ہوگئے۔ مسافروں نے اہلکار سے مبینہ تصاویر ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب اہلکار نے مبینہ طور پر میٹرو کوچ سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ مسافروں نے اسے روک لیا، جس کے بعد کوچ کے اندر ہاتھا پائی شروع ہوگئی اور متعدد افراد نے اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
کئی مسافروں نے الزام عائد کیا کہ جھگڑے کے دوران سی آئی ایس ایف اہلکار نے اپنی سروس پستول نکال کر ان کی جانب تان دی، تاہم بعد ازاں وہ پلیٹ فارم پر اتر گیا۔ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد مذکورہ سی آئی ایس ایف اہلکار کو معطل کردیا گیا ہے جبکہ معاملے کی محکمانہ تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہیں۔پولیس نے خاتون اور دیگر مسافروں کی جانب سے اہلکار پر بغیر اجازت تصاویر بنانے کے الزامات سے سی آئی ایس ایف حکام کو آگاہ کردیا ہے۔ حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
