انسان اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتا جب تک کہ اس کے اندر خود احتسابی کی صفت پیدا نہ ہو۔ خود احتسابی کا مطلب اپنی ذات کا محاسبہ کرنا، اپنے اعمال، اطوار، خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لینا ہے۔ یہ ایک ایسی عظیم صفت ہے کہ اگر ہر انسان اس سے متصف ہو جائے، یعنی دوسروں کے عیوب پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے عیوب کو دیکھے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرے، تو معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے اور ہر فرد کی کافی حد تک اصلاح ہو جائے۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں اپنی اصلاح کی فکر کرنے کے بجائے انسان دوسروں کے عیوب اور خامیوں پر نظر رکھتا ہے، انہیں تلاش کرتا ہے اور پھر ان کے بارے میں دوسروں سے گفتگو اور چہ مگوئیاں کر کے حرام فعل، یعنی غیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے؛ جب کہ اپنے مسلمان بھائی کے عیوب پر پردہ ڈالنے کی حدیثِ شریف میں تاکید کی گئی ہے اور اس کا اجر بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
"مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ”
ترجمہ: "جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے۔”
یہ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے کہ انسان کو دوسرے کے سر پر بیٹھی ہوئی مکھی تو نظر آتی ہے، مگر خود پر لگی ہوئی کیچڑ نظر نہیں آتی۔ بھلا جو خود پانی میں ڈوب رہا ہو، اسے کسی دوسرے کے ڈوبنے کی فکر کیسے ستا سکتی ہے؟ اور جو خود کسی مہلک مرض میں مبتلا ہو، اسے دوسرے کے زکام جیسی معمولی بیماری کی فکر کیوں ہونے لگے؟
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان دوسروں کی اصلاح کی فکر سے پہلے اپنی اصلاح اور اپنے عیوب کو دور کرنے کی کوشش کرے؛ کیوں کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک مصلح نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ خود صالح نہ بنے اور اپنی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب انسان خود احتسابی سے کام لے۔ وہ اپنے ہر عمل، دوسروں کے ساتھ اپنے رویّے، معاشرت و معاملات اور لوگوں کے ساتھ اپنی نشست و برخاست پر خصوصی نظر رکھے۔ پھر روزانہ ایک وقت مقرر کر لے مثلا: شب میں سونے سے پہلے اپنے دن بھر کے اعمال کا جائزہ لے اور یہ سوچے کہ دن بھر میں اس سے کن کن مواقع پر غلطیاں سرزد ہوئیں، اور پھر ان غلطیوں کو دور کرنے کا پختہ عزم اور ہمت کرے؛ کیوں کہ بعض اوقات ہم انجانے میں اور غیر شعوری طور پر کسی کے ساتھ غلط رویّہ اختیار کر لیتے ہیں، پھر ہم تو اپنی اس غلطی کو بھلا بیٹھتے ہیں، مگر وہ کسی کے دل پر گہرا نقش چھوڑ جاتی ہے اور وہ شخص ہماری وجہ سے رنج و غم کا شکار رہتا ہے۔ ایسے میں خود احتسابی ہمیں اس بات کا احساس دلائے گی کہ ہم نے آج اپنے رویّے یا الفاظ سے کس کے دل کو ٹھیس پہنچائی ہے، تاکہ ہم اپنی غلطی کی اصلاح کر سکیں۔
نیز اپنی خوبیوں کا بھی جائزہ لے پھر اگر اسے اپنے اعمال میں کوئی خوبی نظر آئے تو اسے چاہیے کہ ہر اس خوبی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے نوازا ہے، تاکہ شکر کے ذریعے اس نعمت میں مزید اضافہ ہو۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: "لئن شکرتم لأزیدنکم” (ترجمہ: اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور بہ ضرور تمہاری (نعمت میں) اضافہ کروں گا)۔ ہر دن کے محاسبے کی برکت سے وہ اصلاح کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا ایک دن نیک اعمال کے بلند مرتبے پر فائز ہو جائے گا۔
لہذا اسے چاہیے کہ ہمت اور اخلاص کے ساتھ اپنی اصلاح میں جت جائے، تاکہ اس کی ذات نہ صرف اس کے اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مؤثر اور مفید ثابت ہو، نہ کہ تکلیف اور اذیت کا باعث بنے۔ کیوں کہ حقیقی دانش مندی دوسروں کے عیوب تلاش کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے عیوب پہچان کر انہیں دور کرنے میں ہے۔
