اسلام آباد: خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر وفاقی حکومت نے توانائی کے استعمال اور ایندھن کی بچت کے لیے متعدد اہم انتظامی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر ایندھن کی کھپت کم کرنے اور اخراجات میں کمی لانے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ ان میں سرکاری و نجی اداروں کے لیے ہفتے میں تین چھٹیوں کا ماڈل اختیار کرنے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ پٹرول اور ڈیزل کی کھپت میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملازمین کے لیے ورک فرام ہوم (گھر سے کام) کی پالیسی دوبارہ نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس سے روزانہ کی بنیاد پر سفر میں کمی آئے گی اور ایندھن کی بچت ممکن ہو سکے گی۔اس کے علاوہ سرکاری اداروں میں استعمال ہونے والی سرکاری گاڑیوں کی تعداد محدود کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف وزارتوں اور محکموں کے لیے مختص پٹرول اور ڈیزل کے کوٹے میں کمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ غیر ضروری اخراجات کو روکا جا سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ان تجاویز کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنا، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی لانا اور توانائی کے وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنانا ہے۔
