Baaghi TV

امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے،عالمی میڈیا

hamas leader

الجزیرہ کی رپورٹر روزیلینڈ جورڈن نے اپنی رپورٹ میں امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی، امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے-

الجزیرہ کے مطابق امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے عمل کے دوران فلسطینی گروپ کے لیے ‘کسی قسم کی معافی’ دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ میں آخری اسرائیلی قیدی کی لاش بازیاب ہوئی، جو اکتوبر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی،ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ کچھ قسم کی معافی بھی زیر غور ہے، اور امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے، اہلکار نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ معاہدے کے تحت حماس کے سیاسی حیثیت کے اعتراف اور معافی پر بات ہو رہی ہے۔

حماس نے کہا کہ قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے سے اس کی جنگ بندی میں پابندی ظاہر ہوتی ہے اور اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔ اس نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بھی معاہدے پر مکمل عمل کرے، جس میں رفح کراسنگ کھولنا، ضروری اشیا کی فراہمی، پابندیاں ختم کرنا اور نیشنل کمیٹی کے کام کو آسان بنانا شامل ہے۔

ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کے مطابق، قیدیوں کی واپسی کے بعد وہ حماس کے ارکان جو ہتھیار جمع کروائیں گے انہیں معافی دی جائے گی اور جو غزہ چھوڑنا چاہیں گے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا منصوبے میں امداد کے آزادانہ بہاؤ اور رفح سرحدی کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کی وضاحت بھی شامل ہے۔

More posts