Baaghi TV

حنا جاوید اور آیت نور قتل کیس، قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کا تحقیقات پر عدم اطمینان

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے راولپنڈی کی حنا جاوید اور ایبٹ آباد کی آیت نور کے بہیمانہ قتل کے مقدمات میں تحقیقات اور تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام سے سخت سوالات کیے ہیں۔

کنوینر نوشین افتخار کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں حنا جاوید قتل کیس پر سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ سی پی او کے مطابق 28 اگست کو حنا جاوید کے قتل سے متعلق کال موصول ہوئی، جائے وقوعہ سے 19 شواہد اکٹھے کیے گئے جبکہ حنا کے شوہر فیصل اور ملازم ذیشان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ حنا کے سسر کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا۔کمیٹی ارکان نے حنا جاوید کے سسر کی گرفتاری نہ ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر حنا کے سسر اسی مکان میں موجود تھے تو انہیں اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔

سحر کامران نے کہا کہ ملک میں جرائم میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قانون پر عملدرآمد کا سست ہونا ہے۔ شیر افضل مروت نے سوال کیا کہ کیا حنا جاوید کے سسر ریٹائرڈ کرنل ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی خصوصی رعایت دی جارہی ہے؟شاہدہ رحمانی نے کہا کہ حنا کے اہلخانہ کے مطابق جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو سسرال والے اطمینان سے ناشتہ کر رہے تھے۔ زہرہ ودود نے کہا کہ حنا کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے جسم پر گہرے زخموں کے نشانات موجود تھے۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ حنا جاوید کے اہلخانہ کو اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ ان کے سسر کو گرفتار نہیں کیا جارہا۔ ارکان نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ قتل جیسے سنگین واقعے کے بعد کوئی شخص اتنے اطمینان سے ناشتہ کیسے کرسکتا ہے۔

سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق نے کمیٹی کو بتایا کہ حنا کے سسر دو، تین روز تک پولیس کے پاس تھانے میں رہے، تاہم کسی شخص کو قتل کے مقدمے میں گرفتار کرنے کے قانونی نتائج ہوتے ہیں، اس لیے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا کیس نہیں جسے نظر انداز کیا جائے، پراسیکیوٹر بھی تفتیش میں پولیس کے ساتھ ہیں۔

کمیٹی ارکان نے پوسٹ مارٹم رپورٹ، حنا کی موت کی وجہ اور جسم پر موجود تشدد کے نشانات سے متعلق بھی سوالات کیے۔ ارکان کا کہنا تھا کہ بظاہر واقعہ سوچے سمجھے قتل کا معلوم ہوتا ہے اور قتل کے دوران شور شرابہ بھی ہوا ہوگا جسے کسی نہ کسی نے ضرور سنا ہوگا۔ناز بلوچ نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں حنا جاوید کے اہلخانہ کو بھی بلایا جائے گا تاکہ ان سے معلوم کیا جاسکے کہ وہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں یا نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حنا کے سسر کے معاملے میں مبینہ طور پر نرم گوشہ کیوں رکھا جارہا ہے۔

دوسری جانب اجلاس میں ایبٹ آباد کی آیت نور کے قتل کیس پر بھی بریفنگ دی گئی۔ ہری پور سے رکن قومی اسمبلی بابر نواز نے آیت نور کیس میں خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تحقیقات کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔کمیٹی نے دونوں قتل کیسز کے حوالے سے متعلقہ اداروں سے مزید تفصیلات طلب کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں مقتولین کے لواحقین کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں ملک میں گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کنوینر نوشین افتخار نے کہا کہ ڈومیسٹک وائلنس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اور قانون پر فوری عملدرآمد ضروری ہے۔

More posts