Baaghi TV

پنجاب کا انوکھا ہسپتال ،شاندار عمارت، الگ ایمرجنسی مگر کوئی ڈاکٹر موجود نہیں

attock

سب تحصیل ویونین کونسل چھب میں مریم نواز ہیلتھ سنٹر چھب پرکروڑوں خرچ کرنے کے باوجود عوام سہولت سے محروم
مریم نواز سے فوری نوٹس لینے اور ڈاکٹر تعینات کرنے کی اپیل، ذمہداران کے خلاف کارروائی کرنے کامطالبہ

صوبہ پنجاب کا انوکھا ہسپتال ،شاندار عمارت سٹیٹ آف دی آرٹ الگ ایمرجنسی مگر کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ۔ ضلع اٹک کی سب تحصیل ویونین کونسل چھب میں مریم نواز ہیلتھ سنٹر چھب پرکروڑوں خرچ کرنے کے باوجود عوام سہولت سے محروم ہوگئے ،وزیراعلیٰ مریم نواز سے فوری نوٹس لینے اور ڈاکٹر تعینات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ذمہداران کے خلاف کارروائی کرنے کامطالبہ کردیا۔

پنجاب میں ایسے ہسپتال کاانکشاف ہواہے جہاں پر شاندار عمارت ،ایمرجنسی ،نرسیں ،سٹاف،آپریشن تھیٹر سب کچھ ہے مگر ڈاکٹر نہیں ہیں ،ضلع اٹک کی سب تحصیل ویونین کونسل چھب میں ہسپتال کانام مریم نواز ہیلتھ سنٹر چھب ہے جو سب تحصیل آفس ویونین کونسل چھب میں موجود ہے سات یونین کونسلوں کاواحد ہسپتال ہے، جہاں گزشتہ ایک ماہ سے ڈاکٹر نہیں ہے جس کی وجہ سے اوپی ڈی بنداور ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو تحصیل ہسپتال ریفر کردیاجاتاہے۔ ہسپتال کی اپ گریڈیشن پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے اور سٹیٹ آف دی آرٹ نئی ایمرجنسی بنائی گئی ،

مریم نواز ہیلتھ سنٹر چھب میں کل 6ڈاکٹروں کی آسامیاں موجود ہیں جن میں پانچ میل ڈاکٹر اورایک فی میل ڈاکٹر کی آسامی ہے بدقسمتی سے گذشتہ ایک ماہ سے تمام آسامیاں خالی ہیں اورجوایک ڈاکٹر کنٹریکٹ پر کام کررہاتھا اس کا کنٹریکٹ بھی ختم کردیاگیاہے اب ہسپتال بغیر ڈاکٹر کے چل رہاہے ۔ہسپتال میں 40سے50ملازمین کاعملہ ہے جن میں 4ڈسپنسرز،5سٹاف نرسیں ،2ایل ایچ وی،1کلرک،1میڈوائف ودیگر ملازمین شامل ہیں ۔
چھب کے عوام نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیاہے کہ چھب میں ہسپتال کی عمارت اسلام آباد میں موجود سرکاری ہسپتالوں سے سو فیصد اچھی ہے مگر ڈاکٹر نہیں ہیں سٹیٹ آف دی آرٹ نئی ایمرجنسی بنائی گئی امید تھی کہ مزید ڈاکٹر بھی آئیں گے اور سب تحصیل ویونین کونسل چھب کے عوام اس سے مستفید ہوں گے مگر شاندار عمارت بننے کے بعد ڈاکٹر تعینات کرنے کے بجائے بیوروکریسی نے تمام ڈاکٹر ہی ہسپتال سے ہٹا دیئے ہیں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہاالٹھا جو علاج کی سہولت موجود تھی اس کو ہی ختم کردیا گیا۔

وزیر صحت پنجاب کے نام درخواست میں کہاگیاہے کہ ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کی سب تحصیل ویونین کونسل چھب میں عوام کے علاج کے لیے بہترین ہسپتال موجود ہے موجودہ دورہ حکومت میں نئی ایمرجنسی بھی بنائی گئی جس سے مریضوں کو مزید فائدہ ہونا تھا واضح رہے کہ یہ علاقہ سرکاری زبان میں ہارڈ ایریا شمارہوتا ہے ۔مگر ہماری بدقسمتی کہ جہاں مزید ڈاکٹر تعینات کیئے جانے تھے وہاں پر اب ایک بھی ڈاکٹر نہیں ہے باقی سارا عملہ موجود ہے،لیبارٹری ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے ایکسرے کی سہولت موجودہے مگر ڈاکٹر نہیں ہے ۔آر ایچ سی چھب (RHC Chhab) میں ڈاکٹرز کی عدم دستیابی کے باعث پورا علاقہ بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہے۔ منتخب نمائندگان اور متعلقہ حکام اس حوالے سے خاموش ہیں مجبورا میڈیا کا سہارا لیکر آواز آپ تک پہنچا رہے ہیں۔آپ سے پرزور مطالبہ ہے کہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور یہاں مستقل ڈاکٹرز تعینات کیے جائیں۔دوسرا مسئلہ ایمبولینس کا ہے جو عطیہ کی گئی تھی مقامی انتظامیہ کہ نااہلی کے ایک سال گراج میں کھڑی رکھی کہ اس کا نمبر نہیں لگا اور جو بھی مریض آتا پرائیوٹ ایمبولینس کرکے دی جاتی اور اس میں بھی مقامی عملہ 1ہزار سے 15سوروپے فی مریض کمیشن کھاتا رہا ہے ۔آپ اس کا نوٹس لیں اور فورا گائنی کی ایک ڈاکٹر ایک مرد ڈاکٹر تعینات کردیں ۔باقی ڈاکٹروں کی آسامیاں فل کی جائیں تاکہ ایمرجنسی بھی فعال ہوجائے۔

واضح رہے کہ مریم نواز ہیلتھ سنٹر چھب سب تحصیل ویونین کونسل چھب میں ایک بہترین ہسپتال کی عمارت موجود ہے اگر ہسپتال میں خالی آسامیاں فل کرلی جاہیں تو ہزاروں شہریوں کو فائدہ ہوگا اسی علاقے سے گیس اور تیل بھی نکل رہاہے جو ملک کے معیشت میں اہم کردار ادا کررہاہے ۔ شہریوں نے کہاہے کہ صحت پر وزیراعلی کروڑوں روپے خرچ کررہیں اور سہولیات بنارہی ہیں مگر انتظامیہ اس سب کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے ۔

More posts