برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ وہ 35 ممالک کے ساتھ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے بات چیت کریں گے۔
دنیا کے تقریباً 35 ممالک جمعرات کے روز ایک اہم ورچوئل اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے باعث بند ہونے والی اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔
امریکی خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ یہ اجلاس برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کی سربراہی میں منعقد ہوگا، جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح مؤثر سفارتی اور سیاسی اقدامات کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی بحال کی جا سکتی ہے، پھنسے ہوئے جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، اور ضروری اشیاء کی ترسیل کو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے –
اسٹارمر نے کہا کہ گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا آسان نہیں ہوگا، لیکن تمام ممکنہ سفارتی اور سیاسی اقدامات پر غور کیا جائے گا تاکہ جہازوں اور عملے کی حفاظت کے ساتھ اہم اشیا کی ترسیل دوبارہ شروع کی جا سکے وہ اجلاس میں شامل ممالک جو پہلے ہی محفوظ راستے کے لیے تعاون کرنے پر تیار ہیں، اس ہفتے کی بات چیت میں حصہ لیں گے اجلاس کے بعد برطانیہ اپنے عسکری منصوبہ سازوں کے ساتھ بھی حکمت عملی تیار کرے گا تاکہ ہرمز کی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
عالمی رہنما ایران کی جانب سے اس سمندری راستے کے بند ہونے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، کیونکہ یہاں سے دنیا کے پانچویں حصہ تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہےاس بندش کے بعد عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور کئی ممالک نے اپنی اسٹراٹیجک تیل اور گیس کے ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بحران کم کیا جا سکے۔
