اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بورڈ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بورڈ کی تشکیل کے لیے اسرائیل سے رابطہ نہیں کیا گیااسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار غزہ بورڈ کا معاملہ امریکی وزیرخارجہ مارکو رُوبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔
واضح رہے وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تھاغزہ میں ‘بورڈ آف پیس’ کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے، یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور حکومت میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
امن کی پاسبانی، قربانیوں کی گواہی اور بلوچستان کا محفوظ مستقبل،تحریر:نور فاطمہ
وائٹ ہاؤس کے مطابق غزہ بورڈ میں میجر جنرل جیسپر جیفرز عالمی استحکام فورس کے کمانڈر مقرر کیے گئے ہیں وزیرخارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر کو بھی بورڈ آف پیس میں شامل کیا گیا ہےآریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام بورڈ کے سینئر مشیر مقرر ہوئے ہیں جبکہ نکولے ملادینوف کو بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو رکن مقرر کیا گیا ہے جو غزہ کے لیے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گےبرطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ساتھ مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی بورڈ آف پیس کا حصہ بن گئے۔
