وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے کہا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو وہ اپنے کسی ذاتی ڈاکٹر کا نام بھی دے دیں تاکہ طبی معائنے کے عمل کو مزید واضح بنایا جا سکے،اپوزیشن سے رابطوں کا عمل کسی خط کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی حکومت اپوزیشن سے رابطے میں تھی، حکومت سنجیدہ مذاکرات اور معاملات کے حل پر یقین رکھتی ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ کوئی بھی قیدی ہو، اسے آئین و قانون کے مطابق علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے پر بھی یہی اصول اپنایا گیا، حکومت کی جانب سے ایک غیر سیاسی ڈاکٹر کا نام مانگا گیا، جس کے بعد کہا گیا کہ فیملی کا نما ئندہ بھی ساتھ لے جایا جائے حکومت نے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام تجویز کیا،بعد ازاں مطالبہ سامنے آیا کہ عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے اسپتا ل منتقل کیا جائے، جس پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا، چاہے وہ ایک ہفتہ ہو یا 2 ہفتے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ آنکھوں کے معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا ان کے بقول عمران خان کے معالجین نے خود کہا کہ انہیں بہترین طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں سب فریقین متفق ہو جاتے ہیں مگر علیمہ خان ویٹو کر دیتی ہیں، کچھ اینکرز کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ عمران خان کی پوری آنکھ ضائع ہو چکی ہے، جو حقائق کے منافی ہے انہوں نے زور دیا کہ بینائی سے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولتیں دکھائی جا سکتی ہیں تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں ان کے بقول وہ چاہیں تو میڈیا نمائندوں کو خود وہاں لے جا سکتے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائےحکومت پہلے ہی اپوزیشن سے رابطے میں تھی اور محمود خان اچکزئی کے خط سے قبل ہی معاملات پر بات چیت جاری تھی،حکومت نے واضح یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
وزیر داخلہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ کے لیے ایک نان پولیٹیکل آئی اسپیشلسٹ تجویز کیا گیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے اعتماد کے کسی ماہر چشم کا نام دے دیں چیک اپ کے دوران فیملی ممبر کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی قریباً ڈیڑھ گھنٹہ اسپتال میں موجود رہے بعد ازاں ایک ہفتے کے لیے اسپتال میں داخلے کا مطالبہ سامنے آیا، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ داخلے کا فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا مزید ٹیسٹ کرانے کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر علی خان کو ملاقات کی دعوت دی گئی، جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پمز اسپتال میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی اس دوران قریباً 45 منٹ تک ڈاکٹروں نے فون پر تفصیلی بریفنگ دی اور میڈیکل رپورٹ بھی شیئر کی گئی، جس پر ڈاکٹرز نے اطمینان کا اظہار کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لانے کا مقصد صرف آنکھ کا علاج تھا اور حکومت یا ادارے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتےغیر مصدقہ معلومات پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا زیادتی ہے اگر سیاسی انتقام مقصود ہوتا تو جیل میں سختی کی جاتی، مگر حکومت نے ہمیشہ قانون اور انسانی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ بعض رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتے ہیں اگر سنجیدہ قیادت کی بات سنی جاتی تو آج کی صورتحال پیدا نہ ہوتی اور 9 مئی جیسے واقعات سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داروں کو خود احتسابی کرنا ہوگی اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور عدالت کے فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گافیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ سنجیدہ قیادت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ وہ کسی بھی بحران یا مسئلے پر بات چیت کے لیے حاضر ہیں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے، تاہم این آر او سے متعلق کسی قسم کی بات چیت ان کا موضوع نہیں، قومی مفاد کے معاملات پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن ذاتی رعایتوں پر نہیں، حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہشتگردی کو مظلومیت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے فنڈنگ میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں جب تک عالمی برادری حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گی، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
