ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین اور کویت میں موجود 85 امریکی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی جانب سے جنوبی ایران میں کیے گئے فضائی حملوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملوں کے بعد ایران نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی مفادات کو نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے جنوبی ایران میں 80 سے زائد اہداف پر حملے کیے، جنہیں امریکا نے آبنائے ہرمز میں منگل کے روز تین بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں قرار دیا ہے۔
کویتی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام اس وقت دشمن کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔کویتی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ شہریوں کی جانب سے سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔بیان میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔ تاہم کویتی حکام نے حملوں کے ذمہ دار ملک کا باضابطہ طور پر نام نہیں لیا۔
ادھر بحرین، جہاں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا اہم اڈہ قائم ہے، وہاں بھی میزائل حملے کے خطرے کے پیش نظر سائرن بجا دیے گئے۔بحرینی وزارت داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ پرسکون رہیں، قریبی محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔بحرینی حکام نے تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم سکیورٹی ادارے مکمل الرٹ پر ہیں۔
ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے امریکی حملوں کو "کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج امریکا کو "تباہ کن اور فیصلہ کن جواب” دیں گی۔بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے بین الاقوامی قوانین اور گزشتہ ماہ طے پانے والے امن فریم ورک کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس کا ایران ہر سطح پر جواب دے گا۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی نمائندے محمد قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکا پر شدید تنقید کی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن نے گزشتہ ماہ طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے ایران پر حملے، ایرانی تیل پر نئی پابندیاں اور مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دے کر تمام سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔محمد قالیباف نے کہا "دھونس، بلیک میلنگ اور طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے کا دور ختم ہوچکا ہے، ایران کبھی دباؤ میں نہیں آئے گا۔”
ایرانی فوج نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی محفوظ آمدورفت صرف انہی راستوں سے ممکن ہوگی جن کی نشاندہی ایران کرے گا۔
یاد رہے کہ منگل کے روز آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات کرتے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت سے متعلق دی گئی خصوصی اجازت بھی منسوخ کردی تھی۔
