عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ ایران پر حالیہ حملوں اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے اثرات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
توانائی کے عالمی بازار میں برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بڑھ کر 76 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی اضافے کے بعد 72 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران سے تیل کی سپلائی میں ممکنہ کمی اور عالمی منڈی میں رسد کے حوالے سے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا ایرانی تیل کی برآمدات مزید محدود ہوئیں تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ اور مہنگائی کی شرح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک کے لیے خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ مقامی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
