Baaghi TV

ایران کا قطر میں زیرِ حراست اپنے پائلٹس کی بگڑتی صحت پر تشویش کا اظہار

ایران نے قطر میں زیرِ حراست اپنے پائلٹس کی بگڑتی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری وطن واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی ’مِسنگ اِن ایکشن سرچ کمیٹی‘ کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادہ نے قطر میں زیرِ حراست ایرانی پائلٹس کی جسمانی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہفتے کو اپنے بیان میں جنرل باقرزادہ نے دعویٰ کیا کہ قطر نے تینوں پائلٹس کو سمندری حدود میں کسی مقام پر قید کر رکھا ہے جو بیمار اور زخمی پائلٹس کو رکھنے کے لیے بالکل موزوں جگہ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ پائلٹس کی جسمانی حالت بگڑنے کا خدشہ ہے،تاہم ایرانی پائلٹس کو فوری طور پر مکمل طبی سہولیات سے آراستہ اسپتال میں داخل کرایا جائے۔

جنرل باقرزادہ نے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس سے بھی اپیل کی کہ وہ ایک ایئر ایمبولینس قطر بھیجے تاکہ پائلٹس کو ایران منتقل کیا جا سکےانہوں نے قطر کی جانب سے ایرانی ماہرین کی ایک ٹیم کو قبول کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور دوحہ پر زور دیا کہ وہ پائلٹس کی صورت حال سے نمٹنے اور ان کی واپسی کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے تعاون کرے۔

جنرل باقرزادہ اس معاملے پر اس سے قبل ریڈ کراس سے بھی رابطہ کر چکے ہیں 16 مارچ کو انہوں نے تنظیم کی صدر میرجانا اسپولیارک کو خط میں پائلٹس کے بارے میں تحقیقات کرنے اور ان سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھاانہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ قطر میں موجود امریکا کے زیرِ انتظام العدید ایئربیس پر حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے تین ایرانی پائلٹس قطری فورسز کی تحویل میں ہیں۔

ایرانی فوجی عہدیدار نے کویت کی حراست میں موجود 4 ایرانی قیدیوں کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا ہے کہ کویت نے ایرانی سفیر کو قیدیوں سے ملاقات کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے جس سے ایرانی شہریوں کی جلد رہائی کی امید پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے آئی سی آر سی کو گوانتاناموبے میں زیرِ حراست افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے درمیان ویڈیو رابطے کے انتظام کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسی نوعیت کی سہولت ایرانی قیدیوں کے لیے بھی فراہم کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ ایران نے حال ہی میں پہلی مرتبہ قطر میں امریکی زیرِ انتظام العدید ایئربیس پر حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے تین ایرانی پائلٹس کے قطری فورسز کی تحویل میں ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

دوسری جانب قطر نے ایرانی میڈیا اور حکام کے بیانات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے 28 اگست کو میڈیا بریفنگ میں کہا کہ قطر پہلے بھی ایران کو تباہ ہونے والے ایرانی طیاروں اور اور شواہد کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کی ٹیم بھیجنے کی پیشکش کرچکا ہے،تہران کو یہ دعوت سرکاری سطح پر دی گئی تھی لیکن ایران نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا، تاہم یہ دعوت اب بھی برقرار ہے۔

More posts