امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اس وقت یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اس صلاحیت کے حصول کی کوشش ضرور کر رہا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران بین البراعظمی بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کی کوشش میں بھی مصروف ہے ایران کے پاس ایسے روایتی ہتھیار موجود ہیں جو امریکا پر حملے کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایران طویل عرصے سے امریکا کے لیے ایک انتہائی سنگین خطرہ ہے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات زیادہ تر اس کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہوں گے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ سفارت کاری کبھی مکمل طور پر ختم ہوتی یا میز سے ہٹتی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کے جواہری معاہدے کے لیے مذاکرات سے قبل ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں۔
30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ،ڈرون ایکٹیویٹی پر پابندی
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے 30 سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندی کا اعلان کیا ہے ، جن پر ایرانی پیٹرولیم کی غیر قانونی فروخت اور اسلحہ سازی میں معاونت کرنے کا الزام ہے،ایران کے مبینہ شیڈو فلیٹ میں شامل جہازوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جو ایرانی تیل و پیٹرولیم مصنوعات کو بیرونی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں،اس اقدام کا مقصد ایرانی حکومت کے مالی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔
راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران مالیاتی نظام کا استعمال غیر قانونی تیل فروخت کرنے، اس کی آمدنی چھپانے، اپنے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کیلئے پرزہ جات حاصل کرنے اور دہشتگرد گروہوں کی حمایت کیلیے کرتا ہے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایران کی ہتھیاروں کی صلاحیت اور دہشتگردی کی حمایت کو ختم کرنے کیلئےٹرمپ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے گی۔
