Baaghi TV

ایرانی وزیر خارجہ کا لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل

america

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیا ہے-

عباس عراقچی نے کہا کہ عالمی برادری نہ صرف لبنان کی موجودہ صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہے بلکہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ آیا امریکا اپنے وعدوں اور اعلانات پر قائم رہتا ہے یا نہیں،جنگ بندی کے بعد ایسے حملے اس کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز کے جنگ بندی سے متعلق بیان کو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں، اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے، گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے، اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں۔

واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے،لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے اس کے علاوہ بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

More posts