Baaghi TV

ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم، ٹرمپ کا اعلان

trump

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے نزدیک اب یہ معاہدہ ختم ہو چکا ہے اور وہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں ایران کے مختلف فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کیں، جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔نیٹو سربراہ مارک روٹے کے ہمراہ انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ "میرے نزدیک جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، میں اب ان سے مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔ وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن میرے خیال میں ان سے بات چیت وقت کا ضیاع ہے۔”

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے 17 جون کو ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک نے فوجی کارروائیاں روکنے اور 60 روزہ مذاکرات کے ذریعے مستقل امن معاہدہ طے کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

امریکی صدر نے رات گئے ہونے والے فضائی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے ایران پر "انتہائی طاقتور حملے” کیے ہیں۔ ان کے بقول ایران نے جنگ بندی کے باوجود راکٹ داغے اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے سخت کارروائی کی۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملے ایران کی جوابی کارروائیوں سے "20 گنا زیادہ شدید” تھے۔انہوں نے کہا کہ "ہم نے انہیں کہا تھا کہ اپنے جنازوں میں مصروف رہیں، لیکن اس کے بجائے انہوں نے راکٹ فائر کیے اور جہازوں پر حملے کیے، اس لیے ہم نے انہیں سخت جواب دیا۔”صدر ٹرمپ نے ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "یہ بیمار اور خطرناک لوگ ہیں، ایران ایک کینسر کی مانند ہے اور کینسر کو ابتدا ہی میں کاٹ کر ختم کرنا پڑتا ہے۔”

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی فوج نے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد نگرانی اور سرویلنس مراکز کو نشانہ بنایا، جس سے 17 جون کو ہونے والے عبوری امن معاہدے کی اہم شقیں غیر مؤثر ہو گئی ہیں۔ایران نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت کے لیے عارضی لائسنس کی منسوخی سمیت دیگر اقدامات نے بھی مفاہمتی معاہدے کو نقصان پہنچایا ہے۔

امریکی کارروائیوں کے دوران ایرانی بندرگاہی شہر بندر عباس میں متعدد دھماکوں اور آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سوشل میڈیا پر جاری تصاویر میں بندرگاہ کے قریب سیاہ دھواں، شدید آگ اور پانی میں جلتی ہوئی کشتیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔امریکی فوج کے مطابق حملوں کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے تصدیق کی ہے کہ دشمن کے ڈرون حملے میں اس کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا ہے، تاہم حملے کی درست جگہ ظاہر نہیں کی گئی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خلیج فارس کے ساحلی شہر بوشہر اور اس کے گردونواح میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ بوشہر ایران کی اہم بندرگاہوں اور توانائی تنصیبات کے قریب واقع ہے، جس کے باعث ان دھماکوں نے مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔

امریکی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری سطح پر آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے۔رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو جنگ کے آغاز میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوئے تھے، جبکہ ان کی تدفین کے لیے ایران اور عراق میں لاکھوں افراد شریک ہیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے بعد نیدرلینڈز کے وزیراعظم روب جیٹن نے بھی امریکی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جا سکتی، تاہم سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ مستقل حل نکالا جا سکے۔

More posts