ایران کی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کی حقیقی عسکری طاقت سے ناواقف ہیں-
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو ایران کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن ایران کی وسیع اور اسٹریٹجک طاقت سے پوری طرح آگاہ نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ایران کے اسٹریٹجک میزائل مراکز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، جدید فضائی دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتیں تباہ کر دی گئی ہیں ایران کی اسٹریٹجک عسکری پیداوار ایسے مقامات پر ہو رہی ہے جن کے بار ے میں دشمن کو علم نہیں اور نہ ہی وہ وہاں تک پہنچ سکتا ہے۔
ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام
ترجمان کے مطابق اب تک جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ “غیر اہم” تھے ترجمان نے مزید خبردار کیا کہ آئندہ کارروائیاں مزید سخت، وسیع اور تباہ کن ہوں گی ایران اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک دشمن کو مکمل اور حتمی شکست نہیں دی جاتی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں،امریکی سفارت کاری محض ایک ڈھونگ ہے۔
پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھارتی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کہا کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں ایران کے ساتھ کیے گئے سفارتی وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی، جن میں 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی بھی شامل ہے امریکا نے مذاکرات کے دوران ہی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائیاں کیں۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج 30 سے زائد ممالک کا اجلاس
ترجمان نے ایران پر جاری امریکی حملوں کو ’’وحشیانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کوئی بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں،ثالثوں کے ذریعے ملنے والے پیغامات میں امریکا کی جانب سے غیر معقول اور یکطرفہ مطالبات کیے جا رہے ہیں، جن میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو ترک کرنا اور اس کے میزائل دفاعی نظام کو محدود کرنا شامل ہے۔
ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ فرانسیسی صدر کو بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے
اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ایرانی عوام ان پیغامات کو شدید شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس وقت ایران کی پوری توجہ اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع پر مرکوز ہے حالیہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ایران نے ’’آپریشن ٹرو پرومس 4‘‘ کے تحت جوابی اقدامات شروع کیے ہیں، جن کے دوران اب تک درجنوں مراحل میں اہم امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
