امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ نے کانگریس کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ ایسی کوئی خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی جس سے ظاہر ہو کہ ایران امریکا پر پہلے حملے کی تیاری کر رہا تھا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اتوار کو ہونے والے بند کمرہ اجلاسوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے کانگریس کے عملے کو اس بارے میں آگاہ کیا ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’رائٹرز‘ بتایا کہ ایران کی جانب سے عمومی خطرات ضرور تھے، لیکن امریکا پر فوری یا پیشگی حملے کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف کی گئی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور بحری جہاز شامل تھے ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شہید ہوئے امریکی فوج نے بتایا کہ بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے زیر زمین تنصیبات پر دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے۔
ایران کا سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ،اسرائیل میں بھی گیس کی پیداوار بند
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کا مقصد امریکی عوام کا دفاع کرنا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے اگر ضرورت پڑی تو کارروائیاں ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔
تاہم اتوار کی بریفنگ میں حکام نے تسلیم کیا کہ ایران کی جانب سے امریکا پر پہلے حملے کی کوئی مصدقہ خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی، جو اس جنگ کے جواز سے متعلق سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک اختیاری جنگ ہے اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں بعض ارکان نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ امن مذاکرات ترک کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا، جبکہ عمان جیسے ثالث ممالک کا کہنا تھا کہ بات چیت کے امکانات موجود تھے۔
امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے سیکیورٹی چیف کا اعلان
دوسری جانب ایران پر حملے میں امریکی شمولیت کو ملک کے لیے وار آف چوائس (مسلط کردہ جنگ) قرار دیا جارہا ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر برنی سینڈرز نے ایکس پر بیان میں ردعمل دیا کہ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایران پر حملہ کرنا پڑا کیوں کہ اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی صدر ہیں جنہوں نے گزشتہ سال کہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو ختم کر دیا گیا ہے ویتنام اور عراق کے بعد اب ایران، ایک اور جھوٹ، ایک اور جنگ۔
ایران پر حملے کے بعد امریکی فوج کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد تنقید کا دائرہ مزید پھیلنے کا امکان ہے۔
صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مشہور وعدے ’میک امریکا گریٹ اگین‘ (میگا) کی حمایت کرنے والے افراد بھی اب کھل کر ان پر تنقید کر رہے ہیں ان کی قریبی ساتھی رہنے والی سابقہ کانگریکس وومن مارجوری ٹیلر گرین نے فوجیوں کی ہلاکت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بالکل غیر ضروری تھا۔
پاکستان میں امریکی سفارت اور قونصل خانوں کی سروسز معطل
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر، نائب صدر اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جنگوں اور ’رجیم چینج‘ کے مسئلوں میں نہ الجھنے کا فیصلہ کیا تھا اب ہم اپنے فوجی جوانوں کو کھو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے سابق چیف اسٹریٹجسٹ اور ’میگا تحریک‘ کے بااثر ترین رہنماؤں میں سے ایک اسٹیو بینن بھی اس معاملے پر ٹرمپ کے مخالف نظر آتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایرک پرنس بھی واضح تنقید کرنے والے شخص بن کر ابھرے ہیں جو ماضی میں بدنام زمانہ تنظیم ’بلیک واٹر‘ کے ذریعے امریکا کی فوجی کارروا ئیوں کا حصہ رہے ہیں لیکن ایران پر حالیہ حملے پر ان کا مؤقف بہت مختلف ہے ایرک پرنس نے اسٹیو بینن کے ہمراہ ایک پوڈ کاسٹ میں ایران میں جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے سوال پر کہا کہ ’ٹرمپ نے چند ماہ قبل بتایا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام تباہ کر دیا گیا ہے اس جنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا، یہ ہماری نہیں بلکہ اسرائیل کی جنگ تھی جس میں امریکا کو بھی گھیسٹا گیا ہے۔
ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن کے رہنما اور امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن تھامس میسی بھی اس معاملے پر ٹرمپ پر برس پڑے ہیں، انہوں نے ایران پر حملہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’امریکہ فرسٹ‘ نہیں ہےجنگ کا فیصلہ کانگریس کی منظوری سے مشروط ہونا چاہئے تھا، وہ اس معاملے پر آواز اٹھائیں گے۔
25 فیصد امریکی ایران پر حملوں کے حامی،ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف بھی گرگیا
امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مارک وارنر نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں ایران کی جانب سے حملے کے خدشے کو مسترد کیا ہےانہوں نے کہا کہ ایسی کوئی انٹیلی جنس رپورٹ نہیں تھی جس سے ثابت ہوتا ہو کہ ایران امریکہ کے خلاف حملہ کرنے والا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام نے کانگریس کے سامنے تسلیم کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر حملے کی کوئی انٹیلی جنس اطلاعات موجود نہیں تھیں، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف پر بھی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔
