ایرانی بندرگاہ بندر عباس کے قریب امریکی حملوں کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، ایران نے فوری جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے مطابق خطے میں ایک امریکی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ آئندہ کسی بھی امریکی حملے کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 3 جہازوں کو روک دیا۔روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک امریکی آئل ٹینکر پر وارننگ شاٹس فائر کیے، جس کے بعد جہاز کو واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکی دباؤ کے خلاف دفاعی اقدامات کا حصہ ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر ایک ہفتے کے دوران دوسری بار فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکے۔روسی میڈیا کے مطابق امریکی حملے ایرانی بندرگاہ بندر عباس کے قریب کیے گئے تاہم ان حملوں میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ادھر ایرانی میڈیا نے مشرقی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی خبر دی ہے، جس کے بعد چند منٹ کے لیے فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا
