امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی۔
صدرٹرمپ نے پیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر خطے کے دیگر ممالک جیسے سعودی عرب اور قطر کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں تو ایران کے پاس بھی یہ میزائل مناسب تعداد میں ہونے چاہئیں اگر سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ”متناسب سطح پر“ ایران کے پاس بھی ایسی صلاحیت ہونا قابل قبول ہے امریکہ اپنی فوجی موجودگی خلیجی خطے میں فوری طور پر ختم نہیں کرے گا بلکہ امریکی افواج ”کچھ عرصے“ تک وہاں تعینات رہیں گی، انہوں نے واضح کیا کہ تہران کے ساتھ معاہدے کے باوجود خطے کی صورتحال اور سکیورٹی معاملات کے پیش نظر امریکی فوج کی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہےجبکہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے-
اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے ، امر یکی فوج کچھ عرصے تک خلیج میں موجود رہے گی،تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے، مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں،اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدا مات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیشرفت ہو سکتی ہے ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کو شش کرے گا جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہد ے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔
