تل ابیب: ایران میں ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر اسرائیل میں سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے سخت بیانات کے بعد اسرائیلی حکام میں تشویش بڑھ گئی ہے امریکی صدر نے متعدد بار ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر مداخلت کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد اسرائیل نے اپنی سکیورٹی صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہائی الرٹ کی عملی صورت کیا ہوگی۔
خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کی صورتحال اور ممکنہ امریکی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے اس رابطے کی تصدیق کی، تاہم گفتگو کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
ٹرمپ نے گرین لینڈ پر خفیہ حملے کی تیاری کا حکم دے دیا، برطانوی میڈیا کا دعوی
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران ایسی آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکا ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہےاس سے قبل صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا، ایران کے بعض شہروں میں عوام کا کنٹرول بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور ایرانی حکومت کو اپنے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ
