امریکی حملوں کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی جارحیت کے جواب میں جوابی کارروائی شروع کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد اردن میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے ایرانی حملے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ایرانی مسلح افواج سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تازہ حملوں کا جواب کئی گنا زیادہ شدت سے دیا جائے گا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ IRGC کے بہادر جنگجوؤں نے حملہ آوروں کے خلاف ایسا جوابی آپریشن شروع کر دیا ہے جس پر انہیں پچھتاوا ہوگا۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق پہلی کارروائی میں ایرو اسپیس فورس کے نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے حملہ آور امریکی فوج کا 50واں جدید MQ-9 ڈرون مار گرایا گیا۔
دوسری جانب امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ، سینٹکام، کے مطابق امریکی فورسز نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی اہلکاروں کے خلاف مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے شہر سیرک کے قریب ایک شادی کی تقریب بھی امریکی حملے کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی مختلف تعداد بتائی گئی، جبکہ 35 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔ایرانی میڈیا کے مطابق قشم جزیرے کے ماسان گاؤں کے قریب پانچ سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ جنوبی بندرگاہی شہر بندرعباس کے مشرقی علاقے میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق امریکی فورسز نے جنوب مشرقی ایران میں جیرفت ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ امریکی فوج نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے مختلف ٹھکانوں پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے تازہ امریکی حملوں کا جواب دیا تو امریکا مزید شدت کے ساتھ کارروائی کرے گا۔ٹرمپ کے مطابق امریکا اس وقت آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈے پر داغے گئے میزائلوں کو روک لیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ایران نے امریکی کارروائی کا جواب دیا تو اس پر مزید شدید حملے کیے جائیں گے، تاہم ان کے بقول یہ امریکا کی سب سے بڑی کارروائی نہیں ہوگی اور آئندہ حملے کی صورت میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ادھر ایران نے اپنے فضائی دفاعی نظام میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی اہداف کی شناخت، تجزیے اور فیصلہ سازی کے عمل میں آپریٹرز کی معاونت کرے گی۔
