Baaghi TV

ایرانی حملوں میں 261 فوجی اور 6000 شہری زخمی ہوئے،اسرائیلی فوج

iran

اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے اپنے جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 261 اسرائیلی فوجی اور6000 سے زائد سویلین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے121 افراد اب بھی زیر علاج ہیں،اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 232 افراد زخمی ہونے کے باعث اسپتال منتقل کیے گئے، جس کے بعد جنگ کے دوران ہسپتالوں میں داخل شدگان کی تعداد 6000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ان زخمیوں میں سے 2 افراد کی حالت تشویشناک،8افراد کی حالت تسلی بخش اور 215 افراد کی حالت بہتر بتائی گئی ہےجبکہ 7 افراد کو گھبراہٹ کے علاج کے لیے اسپتال لایا گیاوزارت صحت نے زخمی ہونے کی وجوہات کی تفصیل نہیں بتائی، تاہم کہا گیا ہے کہ بعض افراد کو پناہ گاہ تک پہنچنے کی کوشش کے دوران بھی چوٹیں لگی ہیں۔

علاوہ ازیں، اسرائیل نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں اس کے 261 اسرائیلی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، تاہم فوج نے اب تک ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد ظاہر نہیں کی ہےدوسری جانب اسرائیل نے اپنے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ منظور کیا ہے جو 271 ارب ڈالر پر مشتمل ہےماہرین کا خیال ہے کہ اتنا بڑا بجٹ اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل خود کو کسی ایک مختصر کارروائی کے بجائے ایک طویل اور کثیر الجہتی جنگ کے لیے تیار کر رہا ہے۔

دوحہ انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے ماہر محمد المصری نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا کہا کہ اسرائیل کا یہ تاریخی بجٹ اُس کی اِس نیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مختلف محاذوں پر کئی جنگیں لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تاریخی طور پر امریکا اسرائیل کو ہر سال 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا رہا ہے اور جنگ کے دوران یہ رقم مزید بڑھ جاتی ہے، لیکن اب اسرائیل کے اندر یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ شاید حالات ہمیشہ ایسے نہ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کا سیاسی منظرنامہ بدل رہا ہے اور وہاں کے عوام نہ صرف اسرائیل بلکہ اسے ملنے والی امریکی امداد پر بھی تنقید کر رہے ہیں اس بجٹ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اسرائیل خود کو جنگ کے خاتمے پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ وہ شاید ابھی جنگ کے وسط یا محض آغاز میں ہے سرائیلی قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ شام، لبنان، فلسطینی علاقوں اور ایران کے ساتھ ایک طویل المدتی جنگ کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اپنے ’گریٹر اسرائیل‘ کے خواب کو حقیقت بنا سکیں۔

More posts