فیفا ورلڈکپ 2026 کے اپنے افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2-2 گول سے مقابلہ برابر رہنے کے بعد ایرانی ٹیم فیفا اور سفری انتظامات پرںالاں نظر آئی-
کپتان مہدی طارمی، مڈفیلڈر محمد محبی اور ہیڈ کوچ امیر قلعہ غلینوئی نےدعویٰ کیا کہ ٹیم کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہےاور میچ کے فوراً بعد لاس اینجلس چھوڑنے کی ہدایت نے صورت حال مزید پیچیدہ بنا دی کھلاڑیوں کو ریکوری کے لیے وقت درکار تھا لیکن انہیں فوری طور پر میکسیکو کے شہر تیخوانا واپس جانے کا کہا گیا،ان کے مطابق ایران اس ورلڈ کپ کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ٹیم ہے کیونکہ ٹیم کے کئی عہدیدار، میڈیا نمائندے اور فیڈریشن حکام امریکا میں داخل نہیں ہو سکے ہیں۔
مہدی طارمی نے بھی انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ میں ٹیموں کو بہتر سہولیات ملنی چاہئیں تیخوانا سے لاس اینجلس کا مختصر سفر بھی امیگریشن مسا ئل کے باعث پانچ گھنٹے طویل ہوگیا جس سے کھلاڑیوں کی جسمانی تھکن میں اضافہ ہوا۔
میچ کے بعد فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو ایرانی ڈریسنگ روم پہنچے اور کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا ٹیم کی جدوجہد اور عزم کو دیکھ رہی ہے انہوں نے ایرانی ٹیم کو ورلڈ کپ میں اپنی مہم جاری رکھنے اور مشکلات کے باوجود بہترین کارکردگی دکھانے کی تلقین کی، دوسری جانب ایرانی کوچ نے میکسیکو اور خصوصاً تیخوانا کے عوام کی مہمان نوازی کو سرا ہتے ہوئے کہا کہ وہاں انہیں گھر جیسا ماحول فراہم کیا گیا۔
