Baaghi TV

اسلام آباد: رہائشی علاقے میں فحش محفل، پولیس کا چھاپہ، 13مرد، 4 خواتین گرفتار

form

اسلام آباد: تھانہ ترنول پولیس نے سیکٹر E-16/3 میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر فحش محفل اور شراب کی فراہمی میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مکان کی بیسمنٹ سے 13 مرد اور 4 خواتین کو حراست میں لیا گیا، جبکہ کچھ افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔پولیس رپورٹ کے مطابق 31 اگست 2026 کو رات تقریباً 12 بج کر 25 منٹ پر مکان نمبر 46، گلی نمبر 1، سیکٹر E-16/3 میں کارروائی کی گئی۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو کچھ عرصے سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ سلیم خان نامی شخص اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رہائشی علاقے میں مبینہ طور پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کا مرکز چلا رہا ہے، جہاں مختلف افراد کو بلا کر لڑکیوں اور شراب کی فراہمی کی جاتی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی سے قبل مخبرِ خاص نے اطلاع دی کہ مذکورہ مکان میں متعدد لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد ایس ایچ او کی ہدایت پر پولیس ٹیم تشکیل دے کر مکان پر چھاپہ مارا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مکان کی بیسمنٹ میں مختلف لڑکوں اور لڑکیوں کو موجود پایا، جبکہ وہاں مبینہ طور پر اونچی آواز میں لاؤڈ اسپیکر پر موسیقی بھی چلائی جارہی تھی۔ پولیس نے موقع سے سلیم خان، خبیب، حسن رفیق، علی رضا، عمیر، محمد حمزہ، محمد علی، شمعون الدین، جواد علی، عزیز الرحمن، ابوبکر، صدیق احمد اور ملک احتشام نون سمیت 13 افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس رپورٹ میں چار خواتین کے نام بھی درج کیے گئے ہیں، تاہم خبر میں ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جارہی۔پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران سلیم خان کے قبضے سے ایک بڑی شیشے کی بوتل برآمد ہوئی جس میں مبینہ طور پر مریس ووڈکا موجود تھی، جبکہ ایک گاڑی سے مریس وینم لیگر کے 12 سیل شدہ کین بھی برآمد کیے گئے۔ پولیس نے شراب کے نمونے کیمیائی تجزیے کے لیے الگ کرکے قبضے میں لے لیے۔

رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور ایک کرولا گاڑی بھی پولیس نے قبضے میں لے لی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ لڑکے اور لڑکیاں کارروائی کے دوران موقع سے فرار ہوگئے۔تھانہ ترنول پولیس نے واقعے کا مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 294 اور 188، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام ایکٹ 2018 کی متعلقہ دفعہ، امتناعِ منشیات سے متعلق دفعات اور ایمپلی فائر ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کرلیا ہے۔ایف آئی آر میں پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزمان نے رہائشی علاقے میں مبینہ طور پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کا مرکز قائم کرکے فحاشی پھیلائی، مختلف گاہکوں کو لڑکیاں اور شراب فراہم کی اور اونچی آواز میں لاؤڈ اسپیکر چلا کر قانون کی خلاف ورزی کی۔

پولیس کے مطابق مقدمہ درج کرنے کے بعد مزید تفتیش کے لیے تفتیشی افسر مقرر کرنے اور موقع کا معائنہ کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ مقدمے میں عائد الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالت میں ہونے والی کارروائی کے بعد ہوگا۔

More posts