روسی ارب پتی الیکسے مورداشوف کی ملکیت لگژری سپر یاٹ ’نورڈ‘ نے دبئی میں مرمت کے بعد آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے عمان کے ساحل تک اپنا سفر مکمل کر لیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی اور نگرانی کے حوالے سے حساس صورتحال برقرار ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی اس کثیر المنزلہ یاٹ کی نقل و حرکت پر نہ ایران نے کوئی اعتراض کیا اور نہ ہی امریکا کی جانب سے کسی ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ یاٹ بین الاقوامی بحری قوانین کے تحت ایک منظور شدہ راستے سے گزری۔
رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ اس حساس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے یاٹ کو کس طرح اجازت ملی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ایک سویلین جہاز تھا اور اس کا سفر پرامن نوعیت کا تھا، اس لیے اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اس لیے مداخلت نہیں کی کیونکہ یاٹ ایک دوست ملک سے تعلق رکھتی تھی اور اس کا ایران سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح امریکا کی جانب سے بھی کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا کیونکہ یاٹ نے ایرانی بندرگاہوں کا رخ نہیں کیا۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز عبور کرنے کے بعد ’نورڈ‘ اتوار کے روز عمان کے ساحل کے قریب دیکھی گئی، جہاں وہ کچھ وقت کے لیے رکی رہی۔
روسی لگژری یاٹ ’نورڈ‘ آبنائے ہرمز عبور کر گئی
