اسرائیل میں سیکڑوں افراد ایران جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں عوامی اجتماعات پر پابندی کے باوجود سیکڑوں افراد نے یران جنگ کے خلاف احتجاجی ریلی میں شرکت کی اور وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف نعرے لگائے، اس دوران مظاہرین نے” بمباری نہیں بات کرو”، "نہ ختم ہونے والی جنگ ختم کرو "کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
اس کے علاوہ مظاہرین نے ایران، لبنان، غزہ میں جنگ اور مغربی کنارے میں منظم تشدد روکنے کا بھی مطالبہ کیا جبکہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا۔
امریکا اسرائیل کے ایران پر حملے، خوزستان میں پیٹروکیمیکل تنصیبات تباہ
دوسری جانب جنگ نے ایک نیا اور تشویشناک رخ اختیار کر لیا ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں تعلیمی ادارے بھی نشانے پر آ گئے ہیں شمالی تہران میں واقع شاہد بہشتی یونیورسٹی کے وسیع و عریض کیمپس میں قائم لیزر اینڈ پلازما ریسرچ انسٹیٹیوٹ فضائی حملے کے بعد کھنڈر میں تبدیل ہو گیا۔
جمعہ کے روز ہونے والے اس حملے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ حکومت کی جانب سے پہلے ہی تمام جامعات کی کلاسز آن لائن منتقل کر دی گئی تھیں تاہم قریبی ہاسٹلز کو جزوی نقصان پہنچا، یونیورسٹی انتظامیہ نے اس حملے کو علمی آزادی، تحقیق اور تعلیمی ماحول پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی تعلیمی برادری سے آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔
امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ادھر ایران کے وزیر سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی سراف نے انکشاف کیا ہے کہ 28 فروری سے جاری جنگ کے دوران اب تک ملک بھر میں کم از کم 30 جامعات کے مختلف حصے امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہو چکے ہیں۔
