Baaghi TV

اسرائیل میں فلسطینیوں کو پھانسی دینے کا قانون منظور

plaestine

اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک متنازع قانون منظور کرلیا ہے جس کے تحت فلسطینیوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائے موت دی جا سکے گی، جبکہ سزا سنائے جانے کے 90 دن کے اندر پھانسی پر عملدرآمد بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزکے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے اس قانون کے حق میں 62 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 48 نے مخالفت کی اور ایک رکن اجلاس میں غیر حاضر رہا، قانون کے تحت دی جانے والی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی،یہ قانون اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر کی جانب سے پیش کیا گیا، پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مقتولین کے لیے انصاف اور دشمنو ں کے لیے عبرت کا دن ہے، جو دہشت گردی کا انتخاب کرے گا وہ موت کا انتخاب کرے گا۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائیں گے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے جبکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں حماس اور اسلامک جہاد نے بھی اس قانون کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے تنظیموں نے فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اقدام کے خلاف مزاحمت کریں اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔

ادھر امریکا نے اسرائیل کے اس متنازع قانون پر براہ راست مذمت سے گریز کیا ہے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ امریکا اسرائیل کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اسرائیل کو قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہےامریکا کو توقع ہے کہ ایسے مقدمات میں شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا، تاہم انہوں نے اس قانون پر کسی قسم کی تنقید کرنے سے احتراز کیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1954 میں قتل کے جرائم پر سزائے موت ختم کر دی تھی، جبکہ سول عدالت کے ذریعے آخری بار سنہ 1962 میں نازی جرائم کے منصوبہ ساز ایڈولف آئخ مین کو پھانسی دی گئی تھی،مغربی کنارے کی فوجی عدالتوں کو پہلے ہی سزائے موت سنانے کا اختیار حاصل ہے، تاہم ماضی میں اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

More posts