Baaghi TV

مانگنے والی،تحریر : محمد سبحان شوق

uae

آج کل سڑکوں پر اکثر ایسی عورتیں دکھائی دیتی ہیں جو نقاب میں لپٹی ہوتی ہیں۔ پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی باوقار گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں مگر اگلے ہی لمحے وہ گاڑی کے شیشے پر ہاتھ رکھ کر مدد مانگتی نظر آتی ہیں۔ ان کے چہروں پر نظر نہیں پڑتی مگر ان کے انداز میں ایک ایسی خاموشی ہوتی ہے جو بہت سے سوال چھوڑ جاتی ہے۔ میں جب انہیں دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں سب سے پہلے یہ سوال آتا ہے کہ آخر وہ کون سی مجبوری ہے جس نے ایک عورت کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر سڑک کے کنارے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

کیا اس کا کوئی باپ نہیں ہوگا جس نے کبھی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے چلنا سکھایا ہوگا۔ کیا کوئی بھائی نہیں ہوگا جس کے ساتھ اس نے بچپن گزارا ہوگا۔ کیا کوئی ماں نہیں ہوگی جو کبھی اس کے بال سنوار کر اسے دعائیں دیتی ہوگی۔ کیا کوئی ایسا رشتہ نہیں جسے یہ احساس ہو کہ اس عورت کی عزت آج دھوپ میں کھڑی لوگوں کی نگاہوں کے سامنے سوال بن چکی ہے۔ یا پھر ہمارے معاشرے میں رشتے صرف نام رہ گئے ہیں اور ذمہ داری مر چکی ہے۔

کبھی کبھی شوہر بھی ساتھ کھڑا نظر آتا ہے اور ایک بچہ عورت کی گود میں ہوتا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر سوال اور گہرا ہو جاتا ہے۔ اگر شوہر صحت مند ہے تو پھر یہ عورت کیوں مانگ رہی ہے۔ اگر گھر میں فاقہ ہے تو شوہر کہاں تک مجبور ہے۔ اگر یہ واقعی مجبوری ہے تو معاشرہ اس خاندان کے لیے کیا کر رہا ہے۔ اور اگر یہ ایک پیشہ ہے تو پھر ایک عورت اور ایک معصوم بچے کو اس پیشے کا حصہ بنانے والی ضرورت آخر کہاں سے پیدا ہوئی۔

ہم بہت جلد فیصلہ کر لیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے یہ سب ڈرامہ ہے۔ کوئی کہتا ہے ان کا یہ کاروبار ہے۔ کوئی کہتا ہے حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ مگر بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس نقاب کے پیچھے ایک انسان بھی ہے۔ ہوسکتا ہے وہ واقعی مجبور ہو اور ہوسکتا ہے وہ کسی منظم بھیک کے نظام کا حصہ ہو۔ حقیقت جو بھی ہو مگر اس عورت کی آنکھوں میں چھپا سوال دونوں صورتوں میں ہمارے معاشرے سے جواب مانگتا ہے۔

مجھے سب سے زیادہ خوف اس وقت محسوس ہوتا ہے جب رات کے وقت یہی عورتیں سڑکوں پر نظر آتی ہیں۔ دن کے ہجوم میں بھی عورت کا سڑک پر ہاتھ پھیلانا آسان نہیں مگر رات کی تنہائی میں تو یہ کام اپنے ساتھ ایک اور خطرہ لے آتا ہے۔ سڑک سے گزرتی گاڑیوں میں بیٹھے ہر شخص کی نگاہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اسے ضرورت مند دیکھتے ہوں گے اور کچھ شاید صرف ایک عورت۔ ان میں سے کچھ مدد کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوں گے اور کچھ ایسی نظروں سے دیکھتے ہوں گے جن سے شاید وہ اپنے نقاب کے پیچھے بھی خود کو محفوظ محسوس نہ کرتی ہو۔

یہ سوچ کر انسان کے اندر ایک عجیب سی بے چینی پیدا ہوتی ہے کہ جس عورت کو ہم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے لیے عزت اور تحفظ چاہتے ہیں اسی معاشرے میں کوئی عورت رات کے اندھیرے میں اجنبی مردوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے۔ ہم اس کے نقاب کو دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ نقاب صرف چہرہ چھپا سکتا ہے خطرہ نہیں۔

اور شاید سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ عورت وہاں تک پہنچی کیسے۔

غربت صرف پیٹ کی بھوک نہیں ہوتی۔ کبھی غربت شوہر کے مر جانے کا نام ہے۔ کبھی غربت شوہر کے ہوتے ہوئے بے روزگاری کا نام ہے۔ کبھی غربت گھر کے مردوں کی بے حسی ہے۔ کبھی غربت جہیز کے قرض میں دبے خاندان کا نام ہے۔ کبھی غربت بیماری ہے اور کبھی ایسا گھر جہاں عورت کے پاس واپس جانے کے لیے کوئی دروازہ نہیں ہوتا۔ ہم باہر سے صرف ایک ہاتھ دیکھتے ہیں جو مدد مانگ رہا ہوتا ہے مگر اس ہاتھ کے پیچھے شاید پوری زندگی کھڑی ہوتی ہے۔

لیکن ایک اور حقیقت سے بھی آنکھ نہیں چرائی جا سکتی۔ بھیک اب صرف مجبوری نہیں رہی۔ بعض جگہوں پر یہ ایک باقاعدہ نظام بن چکا ہے جہاں عورتیں اور بچے استعمال ہوتے ہیں۔ معصوم بچے کو گود میں لے کر کھڑے ہونا شاید لوگوں کے دل کو زیادہ جلدی نرم کر دیتا ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں کسی عورت کی غربت کسی دوسرے شخص کا کاروبار تو نہیں بن چکی۔

یہ فیصلہ سڑک پر کھڑے ہو کر نہیں کیا جا سکتا کہ سامنے والی عورت مجبور ہے یا پیشہ ور۔ اسی لیے شاید ہمیں فیصلہ کرنے سے پہلے انسان کو دیکھنا چاہیے۔ اگر کوئی واقعی مجبور ہے تو اسے بھیک نہیں بلکہ راستہ چاہیے۔ اسے چند سکے نہیں بلکہ تحفظ چاہیے۔ اسے ترس نہیں بلکہ ایسا نظام چاہیے جہاں وہ اپنے بچوں کے لیے عزت کے ساتھ رزق کما سکے۔

ہم خیرات دے کر اکثر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ شاید کبھی کبھی خیرات ضروری ہوتی ہے مگر اگر ایک معاشرہ نسلوں تک لوگوں کو خیرات لینے پر مجبور رکھے تو پھر صرف خیرات کافی نہیں رہتی۔ سوال یہ بن جاتا ہے کہ وہ معاشرہ ایسا کیوں ہے جہاں ایک عورت کو اپنے بچے کی روٹی کے لیے اجنبیوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے۔

میں جب ایسی عورت کو دیکھتا ہوں تو اب صرف یہ نہیں سوچتا کہ وہ مانگ کیوں رہی ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ ہم نے اسے اس مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کیا کیا تھا۔

شاید کچھ نہیں۔

اور یہی خیال سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے۔

کیونکہ کبھی کبھی سڑک پر کھڑی مانگنے والی عورت صرف اپنی غربت کی کہانی نہیں سنا رہی ہوتی۔ وہ ہمارے معاشرے کے ان رشتوں کی گواہی بھی دے رہی ہوتی ہے جو زندہ تو ہیں مگر اپنی ذمہ داریوں میں مر چکے ہیں۔

More posts