Baaghi TV

جلد بازی میں نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ وفاق کی یکجہتی کے خلاف ہوگا،بیرسٹر گوہر

pti

سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ کل بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا دن ہے اور ان کی سیاسی قیادت و فیملی سے ملاقات کرائی جانی چاہیے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات انتہائی ضروری ہے۔ محمود اچکزئی نے الیکشن کمیشن کے معاملے پر وزیراعظم کو خط لکھا ہے، جس کا نوٹس لیا جانا چاہیے، مذاکرات پہلے بھی صرف پیشکش کی حد تک رہے، اب مذاکرات کے معاملے پر پیش رفت ہونی چاہیے، اگر خود سے کچھ کیا گیا تو عوام کا سیلاب آئے گا۔انہوں نے سندھ کی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بھرپور استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ کے پی کی کراچی واپسی میں رکاوٹیں ڈالنے کے باوجود لوگ باہر نکلے۔ ان کا استقبال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام اسٹیٹس کو نہیں چاہتی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر نہ پوائنٹ اسکورنگ ہونی چاہیے اور نہ ہی سیاسی بیانات دینے چاہئیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دہشتگردی سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے متعصبانہ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت اور ’را‘ نکلی ہے، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر قومی سیاسی قیادت کو سنجیدہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہماری سویلین آبادی اور افواج قربانیاں دے رہی ہیں۔بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کے علاوہ کوئی اور ایسا بیان دیتا تو اب تک ایف آئی آر ہوچکی ہوتی۔

نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔ صوبوں کے قیام کے لیے متنازع قانون سازی نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ عوام کی مرضی کے بغیر سندھ کو تقسیم کیا گیا تو وفاق کمزور ہوگا۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں عوام یا ان کے منتخب نمائندوں کی مرضی کے بغیر تقسیم سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک میں ایسے تجربات نہیں کرنے چاہئیں۔ نئی پارلیمان کو صوبوں کے معاملے کا جائزہ لینا چاہیے اور اٹھارویں ترمیم کی طرح وسیع مشاورت ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق جلد بازی میں نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ وفاق کی یکجہتی کے خلاف ہوگا۔

More posts