دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا۔
جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ خوشی میں سڑکوں پر نکل آئے، اس دوران لوگوں نے قومی پرچم تھامے ہوئے تھے اور پرجوش نعرے بازی کی مظاہروں میں خواتین، بچے، بوڑھے ، جوان سب شامل رہے اور مختلف شہری تنصیبات کے گرد انسانی زنجیر بھی بنائی۔
بدھ کی صبح جیسے ہی ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے جنگ بندی اور امریکا کی پسپائی کا اعلان کیا گیا، شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ جہاں ایک طرف حکومت کے حامی مظاہرین فتح کے نعرے لگا رہے تھے، وہیں دوسری جانب ایک طبقہ اس معاہدے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔
مظاہرین کے ایک گروہ نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے پرچم نذرِ آتش کیے مظاہرین کو پرامن رکھنے کے لیے منتظمین نے کوششیں کیں، لیکن عوام کا جوش و خروش کم نہ ہوا۔
سڑکوں پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس جنگ بندی کو تسلیم کر لیا ہے تو ہم بھی اس فیصلے پر راضی ہیں، کیونکہ ہمیں اپنے لیڈر کی بصیرت پر مکمل اعتماد ہے، تاہم، بہت سے شہریوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کبھی بھی قابلِ اعتبار نہیں رہا، کیونکہ ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران حملے کیے گئے ہیں،شاید یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے وقت فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔
ادھر ایرانی موسیقار علی قمصری نے دماوند پاور پلانٹ کے باہر دھرنا دیا اور کہا حملے روکنے کے لیے موسیقی بجائیں گے دوسری جانب عراق کے دارالحکو مت بغداد میں بھی جنگ بندی پر جشن کا سماں رہا، لوگ رات گئے گھروں سے باہرنکل آئے، ایران پر مسلط جنگ روکے جانے کاخیرمقدم کیا۔
